.

انڈونیشیا: تمام تر احتجاج کے باوجود عالمی مقابلہ حسن جاری

راسخ العقیدہ مسلمانوں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد فائنل مقابلے کا مقام تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلم اکثریتی انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے بالی کے نواحی علاقے میں تمام تر احتجاج کے باوجود عالمی مقابلہ حسن جاری ہے۔

عالمی مقابلہ حسن کا اتوار کو بالی کے جنوب میں واقع مقام نوسا دعا میں سخت سکیورٹی میں آغاز ہوا تھا۔ رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں مقابلے میں شریک دنیا بھر سے آئی ہوئی حسیناؤں نے ڈانس کیا۔ اس موقع پر عمارت کے ارد گرد کم سے کم ایک سو مسلح پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

مقابلہ حسن میں شریک دوشیزائیں جن ہوٹلوں میں مقیم ہیں اور جن عمارتوں میں مقابلے کے مختلف ایونٹ منعقد ہورہے ہیں، وہاں بھی سیکڑوں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران انڈونیشیا کے مختلف شہروں میں ہزاروں راسخ العقیدہ مسلمانوں نے بالی میں مقابلہ حسن کے انعقاد کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ انھوں نے اس شو کو فحاشی قرار دے کر اس کی مذمت کی تھی اور اس کے منتظمین کے پتلے جلائے تھے۔

بالی میں عالمی حسیناؤں کے اس شو کے خلاف راسخ العقیدہ مسلمان ہی سراپا احتجاج نہیں بنے ہوئے بلکہ ان انڈونیشیا کے مسلم علماء کی کونسل، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایک وزیر نے بھی اس کی مخالفت کی ہے اور اس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

منتظمین نے انڈونیشی مسلمانوں کے احتجاج کے پیش نظر پہلے ہی اس سال کے عالمی مقابلہ حسن میں بکنی مرحلہ ختم کردیا تھا لیکن اس اقدام کے باوجود مخالفین کے غیظ وغضب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور انھوں نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انڈونیشی حکومت بھی ان کے دباؤ کے آگے جھک گئی ہے اور اس نے 28 ستمبر کو دارالحکومت جکارتہ کے نواح میں ہونے والے فائنل مقابلے کو بالی میں منتقل کردیا ہے۔

انڈونیشی دارالحکومت اور اس کےنواحی علاقوں میں راسخ العقیدہ مسلمانوں اور ان کے گروپوں کا اچھا خاصا اثرورسوخ ہے۔ انھوں نے فائنل مقابلے کے وہاں انعقاد کی صورت میں سخت احتجاج کی دھمکی دی تھی۔ اب فائنل مقابلے کے نئے مقام بالی میں اگرچہ ماضی میں بم دھماکے ہوچکے ہیں لیکن وہاں راسخ العقیدہ مسلمانوں یا سخت گیرگروپوں کا زیادہ اثرورسوخ نہیں ہے اور اب غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں وہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔