.

موٹے ترین مرحوم سعودی کا خاندان عدالت پہنچ گیا

بیٹے کی موت ہسپتال کی غفلت کی وجہ سے ہوئی، خاندان کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے غیر معمولی موٹاپے کے حامل اور 610 کلو گرام وزن رکھنے والے نوجوان ماجد الدوسری کی ہسپتال میں موت مبینہ طور پر غفلت کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس امر کا انکشاف ماجد الدوسری کے اہل خانہ کی طرف سے وزارت صحت کے خلاف دائر کردہ مقدمے کی درخواست میں کیا گیا ہے.

تقریبا 25 ماہ تک زیرعلاج رہنے والے ماجد الدوسری کے لواحقین کی جانب سے اس مقدمے کے بعد وزارت صحت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کہ وزارت نے الدوسری کی صحت کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مرحوم ماجد کی بہن رعنا بھی اسی عجیب و غریب مرض کا شکار ہے۔

خاندانی ذرائع کا کہنا ہے علاج میں غفلت کی وجہ سے ماجد الدوسری کی موت کا واقعہ دلخراش تھا، جس کی وجہ سے اس کےاہل خانہ نے ملک میں علاج کو قابل بھروسہ قرار نہ دیتے ہوئے کسی دوسرے ملک میں علاج کو ترجیح دی۔ وزارت صحت کا الدوسری کی صحت کو سامنے رکھتے ہوئے جاری کردہ بیان کے مطابق ماجد الدوسری کی صحت کی تشویشناک ہونے کی وجہ سے انہیں دوسرے ملک بذریعہ ہوائی جہاز نہیں بھیجا جا سکتا تھا، جو کہ غفلت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔

خاندانی ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے وزیر صحت ڈاکٹر عبداللہ الربیع سے ملاقات کی اور ملاقات میں ماجد الدوسری کو سعودی ائر ایمبولینس کے ذریعے دوسری جگہ منتقل کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ مگر وزارت صحت کی طرف سے ماجد الدوسری کا علاج دوسرے ملک میں کرانے کے بجائے غیر ملکی طبی معائنہ کاروں کو یہاں لانے پر اتفاق ہو گیا.

وزارت صحت نے واضح کیا کہ انہوں نے ماجد اور رعنا الدوسری کے صحت کے حوالے سے غیر ملکی ماہر معالجین کی مدد بھی حاصل کی تھی۔ دوسری جانب اہل خانہ نے غیر ملکی طبی معائنہ کاروں کے حوالے سے انکشاف کیا کہ ان میں سے ایک موٹاپے کے مرض کا ماہر جبکہ ایک کارڈیالوجی کا ماہر تھا جو کہ صرف 6 گھنٹوں تک یہاں موجود رہے۔

موٹاپے کے ماہر ڈاکٹر کا تعلق نیو یارک سے تھا جنہوں نے بتایا کہ الدوسری کا وزن کو کم کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے جبکہ مقامی طبی ٹیم کے مطابق الدوسری کے وزن میں ستر سے اسی کلوگرام تک کمی کی ضرورت تھی۔

اب ماجد الدوسری کے خاندان والوں کی طرف سے مکمل تفتیش کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ ماجد الدوسری کی موت کے اسباب سامنے آسکیں ۔ نیز مرحوم کی بہن کو علاج کی بہتر سہولت اور توجہ مل سکے۔