.

یمن: حکمران جماعت کی "قیادت" پر سابق اور موجودہ صدر میں ٹھن گئی

"پیپلز کانگریس" علی عبداللہ صالح کا آخری مورچہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں تئیس سال تک بلا شرکت غیرے حکومت کرنے والے سابق مرد آہن علی عبداللہ صالح عوامی اورعالمی دباؤ پر منصب صدارت سے دستبردار ہوئے مگر ان کی 'خوئے جہان بانی' اب بھی برقرارہے۔ سابق صدر ملک کی موجودہ حکمراں جماعت "نیشنل پیپلز کانگریس" کو اب بھی وراثت سمجھ کر اس کی قیادت اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف صدرعبد ربہ منصورھادی کا دعویٰ ہے کہ سربراہ مملکت ہونے کے ناطے پارٹی کی صدارت کے بھی وہی سب سے زیادہ حقدار ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شورش زدہ ملک میں چوٹی کی ان دونوں شخصیات کے درمیان تازہ مخاصمت پارٹی کی سربراہی کے لئے ہو رہی ہے۔ گو کہ اس وقت صدرعبد ربہ منصور نیشنل پیپلز کانگریس کے نائب صدر اور سیکرٹری جنرل عہدوں پر فائز ہیں۔ نیشنل کانگریس کا ملک کی سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ بھی بجا ہے کیونکہ اس وقت پارلیمنٹ کی 301 میں سے 220 نشستیں اسی جماعت کے پاس ہیں۔

صدر عبد ربہ منصورھادی پارٹی کی صدارت کے حصول کے لیے زمین ہموار کر رہے ہیں۔ وہ مختلف جلسوں اور کارنر میٹنگوں میں خود کو پارٹی قیادت کا اہل ترین امیدوار گردانتے ہیں۔

صنعاء میں یوتھ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے صدرعبد ربہ منصور ھادی کا کہنا تھا کہ "85 فی صد عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور صرف پندرہ فی صد ایسے ہیں جو سابق دور حکومت کی حامی ہیں"۔ ان کا واضح اشارہ اپنے پیشرو علی عبداللہ صالح کی جانب تھا، جو اس وقت نیشنل کانگریس کے سربراہ ہیں۔

ھادی کے اخوان سے روابط؟

سابق صدرعلی عبداللہ صالح کی جانب سے موجودہ صدر کو دباؤ میں رکھنے کے لیے کئی نوعیت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ ان میں ایک الزام ملک میں سرگرم اخوان المسلمون کی حمایت یافتہ تنظیم "یمن ریفارم سوسائٹی" سے قربتیں بڑھانے کا بھی شامل ہے۔

علی عبداللہ صالح نے چند روز قبل الزام عائد کیا تھا کہ صدر ھادی اخوان المسلمون کی رضا مندی حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ صدر نے اپنی جانب سے کافی حد تک لچک دکھائی ہے مگر وہ لوگ [اخوان المسلمون کی قیادت] پھر بھی راضی نہیں ہوئے۔ علی عبداللہ صالح نے دعویٰ کیا کہ اگرمیں یہاں صنعاء میں موجود نہ ہوتا تو اخوان المسلمون صدرعبد ربہ ھادی کے لیے دسیوں قسم کی مشکلات پیدا کرتی۔ وہ صرف میری وجہ سے صدرکے خلاف کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کر رہی ہے۔

جنیوا میں یمن کے سفیراور سابق وزیراعظم ڈاکٹرعلی مجور کو سابق صدرعلی عبداللہ صالح نے پارٹی اجلاس میں خصوصی دعوت پر بلایا ہے۔ ڈاکٹر مجور سابق صدر کے مقرب خاص سمجھے جاتے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ علی عبداللہ صالح پارٹی قیادت پرصدر ھادی کے اثرو رسوخ کو کم کرنے کے لیے ڈاکٹرعلی مجور کو نیا سربراہ بنانے کی حمایت کریں گے۔

اس خبر پر صدر منصورھادی کے حامی اخبار"الثورہ" نے سابق وزیراعظم ڈاکٹرعلی مجور کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ڈاکٹرعلی مجور ایک سفیر ہیں انہیں سفارت کار ہونے کے ساتھ پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ ایسا سفارتی قانون اور ضابطوں کے بھی خلاف ہے۔ تاہم سابق صدر انہیں پارٹی کی قیادت سمیت کوئی بھی عہدہ دینے کی حمایت کر رہے ہیں۔

پیپلز کانگریس:علی عبداللہ صالح کا آخری قلعہ

یمن کے سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں بھی سابق اور موجودہ صدر کے درمیان پارٹی قیادت کے حوالے سے جاری کشمکش زیربحث ہے۔ ملک کے ایک ممتاز دانشور اور سیاسی امور کے ماہر عمار علی نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "سابق اور موجودہ صدور کے درمیان کئی معاملات پر تناؤ موجود ہے۔

علی عبداللہ صالح کو اعتراض کے کہ صدرھادی نے ان کی سیکیورٹی پر مامور تین ہزار پولیس اہلکاروں کو کم کر کے چھ سو کیوں کر دیا ہے۔ صدر ھادی پر پارٹی کا دباؤ بڑھانے کے لیے علی عبداللہ صالح نے جماعت کے سیاسی شعبے کا اجلاس طلب کیا ہے، جس میں ان رہ نماؤں کو شرکت پر بلایا گیا ہے جوعلی عبداللہ صالح کے ساتھ زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں، یا ان کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔"

یمنی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ سابق صدرعلی عبداللہ صالح کو بخوبی ادراک ہے کہ اگر انہیں ملکی سیاست میں زندہ رہنا ہے تو پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا ہو گی کیونکہ ملک کی صدارت کھو جانے کے بعد ان کے پاس "نیشنل پیپلز کانگریس" ہی آخری قلعہ ہے جسے استعمال کر کے وہ سیاست میں زندہ رہ سکتے ہیں۔