.

" آپ کو نیند کیسے آ جاتی ہے؟ امریکی اینکر کا بشار الجعفری سے استفسار

بشار الاسد کی خاتون مشیرہ کے باغیوں پر الزامات مذاق بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے بزرگ وزیرخارجہ ولید المعلم کے ٹھنڈے مزاج اور 'دھیمے پن' کے باعث دمشق وزارت خارجہ تو"سیاسی ٹھنڈ پروگرام" کے حوالے سے بدنام رہی ہے لیکن امریکا کی ایک خاتون اینکر نے بشارالاسد کے اقوام متحدہ میں لومڑی کی طرح چالاک مندوب خاص بشارالجعفری سے منفرد سوال پوچھ کرا نہیں بھی ٹھنڈا کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سفارتی محاذ پر سرگرم بشارالجعفری اس قت ٹھنڈے پڑ گئے جب امریکی ٹی وی "سی این این" کی خاتون اینکرکریسٹان امانپور نے لائیو پروگرام میں پوچھا کہ "آپ بشارالاسد کے ظالمانہ نظام حکومت کا دفاع کر رہے ہیں۔ آپ کو رات کو کیسے نیند آتی ہے۔"

بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک کے دوران اب تک یا تو اقوام متحدہ میں بشارالجعفری سرگرم رہے ہیں یا صدر کی خاتون مشیر بثنیہ شعبان کی باریک مگر تیز آواز گونجتی رہی ہے۔ بیچارے وزیر خارجہ کی پیرانہ سالی اور دھیمے مزاج نے وزارت خارجہ کو وہ سیاسی بانکپن نہیں دیا جو موجودہ حالات میں اسے حاصل ہونا چاہیے۔ البتہ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے شامی حکومت کے مختلف عہدیدار اپنے اپنے بیان ضروری داغتے رہے ہیں۔

ان دنوں صدر کی مشیر خاص بثنیہ شعبان کا ایک بیان عالمی میڈیا کے ہتھے چڑھا ہے، جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ باغی جنگجو دمشق کے قریب [کیمیائی حملوں سے متاثرہ] الغوطہ سے بچوں اورعلوی قبیلے کی بستیوں سے لوگوں کو اغواء کر رہے ہیں۔ مسز بثنیہ کے اس الزام کا بشارالاسد کو سزا دینے کا عزم کرنے والوں پر کیا اثر پڑا ہے یہ تو معلوم نہیں ہو سکا لبتہ ان کا بیان سماجی حلقوں میں تمسخرضرور بن گیا ہے۔

وزارت خارجہ کی اسی ٹھنڈی سیاست کے تناظر میں دمشق نے سفارتی محاذ کو گرمانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ بشارالاسد کے حاشیہ برداروں کی جانب سے کئی ممالک کو تازہ صورت حال بالخصوص شام پر امریکی حملہ روکنے کے حوالے سے خطوط لکھے جا رہے ہیں۔ ایک تازہ مراسلہ شامی پارلیمنٹ کے اسپیکر جہاد محمد اللحام کی جانب سے امریکی کانگریس کے چیئرمین کو بھیجا گیا ہے جس میں ان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صدر اوباما کو شام پرحملے سے روکیں"۔