ایران مخالف تنظیم "مجاہدین خلق" کے سربراہ کی ہلاکت کا خدشہ

مسعود رجوی "معسکر اشرف" پر حملے کے بعد سے غائب ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی حکام نے تہران مخالف شدت پسند تنظیم "مجاہدین خلق" کے سربراہ مسعود رجوی کی ایک ہفتہ پیشتربغداد کے قریب "معسکراشرف" میں ہونے والے قتل عام میں ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سیکرٹری حسین سلامی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اگرچہ ہمارے پاس مسعود رجوی کی ہلاکت کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے مگر وہ ایک ہفتہ قبل تنظیم کے بیس کیمپ سجھے جانے والے"معسکراشرف" پرحملے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ عین ممکن ہے وہ اس حملے میں مارے گئے ہوں"۔

خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل عراقی سیکیورٹی فورسز کی وردی میں ملبوس حملہ آوروں نے بغداد کے قریب ضلع دیالی میں قائم "معسکراشرف" میں گھس کراندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم باون افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ایرانی عہدیدار حسین سلامی کا کہنا تھا کہ ممکن ہے مسٹرمسعود رجوی اپنی تنظیم کے خلاف کارروائی روکنے میں ناکامی کے باعث خود ہی پس منظرمیں چلے گئے ہوں لیکن ان کی عدم موجودگی سے ان کی ہلاکت کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں حسین سلامی نے کہا کہ مسعود رجوی نے اس وقت بہت بڑی غلطی کی جب وہ اپنے ساتھ تنظیم کے ایک سو موثر کارکنوں کو لے کر"معسکراشرف" میں بیٹھ گئے اور اپنے ساتھیوں کو"لبرٹی کیمپ" میں جانے سے روک دیا۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ اورعراق حکومت نے دسمبر2011ء میں ایک معاہدے کے تحت معسکراشرف سے "مجاہدین خلق " کے تین ہزار کارکنوں کو بغداد کے قریب "لبرٹی " اڈے میں قائم ایک کیمپ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد تنظیم کے بیشتر کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو وہیں منتقل کردیا گیا تھا۔ مجاہدین خلق کے سربراہ مسعود رجوی اور اس کے درجنوں ساتھی ابھی تک اس کیمپ میں موجود ہیں۔

"معسکر اشرف" پرحملہ آوروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پرحسین سلامی نے کہا کہ عراق حکومت واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اس سوال کوا جواب سامنے آئے گا لیکن ایسے لگ رہا ہے کہ یہ کارروائی عراق میں ایران کے حامی گروپوں نے کی ہے، جو "منافقین" پر پہلے بھی حملے کرتے رہے ہیں۔ ایران میں حکومت مخالفین کے لیے "منافق" کی اصطلاح عام استعمال کی جاتی ہے۔

مجاہدین خلق ایران میں اہل تشیع کے ولایت فقیہ کے موجودہ نظام حکومت کےخلاف اور ملک میں حقیقی جمہوریت کی علمبردار سمجھی جاتی ہے۔ اسے عراق کے سابق مطلق العنان صدر صدام حسین کی سرپرستی حاصل رہی ہے، جس کے باعث امریکا اور مغربی ممالک کئی سال تک اسے دہشتگرد قراردیتے رہے ہیں، لیکن اب تنظیم پرعائد عالمی پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں