بھارت : بس میں طالبہ کے ساتھ اجتماٰعی زیادتی کیس

عدالت نے چار افراد کو مجرم قرار دے دیا، ایک نابالغ قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں چلتی بس میں کالج کی طالبہ نربھایا کے ساتھ اجتماعی زیادتی کیس میں چھ میں سے چار کو مجرم قرار دے کر سزا کا مستحق گردانا ہے ۔ اجتماعی زیادتی کے چھ ملزمان میں سے ایک نے دوران حراست خود کشی کر لی تھی جبکہ ایک کو عدالت پہلے ہی نابالغ قرار دے چکی ہے۔

اس کیس کے متوقع حتمی فیصلے کے بعد بھارت میں خاتون فوٹو جرنلسٹ کے ساتھ حالیہ دنوں میں ہونے والی اجتماعی زیادتی کیس کے آگے چلنے کا بھی امکان بڑھ گیا ہے۔

چلتی بس میں طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے اجتماعی زیادتی کیس میں بھارتی عدالت نے پیر کے روز چاروں ملزمان ونے شرما، اکشے ٹھاکر، پون اور مکیش کو مجرم قرار دے دیا ہے۔

ذرائع نے کیس میں اس تازہ پیش رفت کے حوالے سے بتایا کہ وکیل صفائی اے پی سنگھ نے کیس کو اعلی عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب مرکزی وزیر داخلہ سوشیل کمار شندھے نے اس امر کا اظہار کیا کہ عصمت دری کے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور انہیں پھانسی دیکر ایک مثال قائم کی جائے۔

عدالت کیطرف سے دہلی پولس کی جدید سانئنسی انداز میں تحقیقات کو سراہا گیا۔ عدالتی فیصلے دوران بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے واقعات کے خلاف نعرے بازی کی اور عدالت سے مطالبہ کیا کہ ملک کو ایسے مجرموں سے پاک کیا جائے۔

واضح رہے کہ طالبہ کے والدین نے ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے گز شتہ سا ل 16دسمبر کو بھارتی طالبہ کو چلتی بس میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ملزمان نے طالبہ اور اس کے دوست کو زخمی حالت میں سڑک پر پھینک دیا تھا،تاہم 29دسمبر کو طالبہ سنگاپور کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی۔

اس واقعے سے بھارتی معاشرے کی جو تصویر سامنے آئی اسے خاتون فوٹو جرنلسٹ کے ساتھ ممبئی میں ہونے والے اجتماٰی زیادتی کے واقعے نے مزید بگاڑ دیا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں