شام سے کیمیائی ہتھیاروں کی منتقلی کی تجویز مثبت پیش رفت ہے: اوباما

"جنگی منصوبے کے لیے کانگریس کی حمایت میں ناکامی ہو سکتی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما نے روس کی جانب سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول کے تحت دینے کی تجویز کو مثبت پیش رفت قراردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کو سنجیدگی سے لیں گے لیکن انھوں نے شام کو تاخیری حربوں پر خبردار کیا ہے۔

نھوں نے این بی سی کے ساتھ سوموار کی رات انٹرویو میں کہا کہ ’’میرے خیال میں آپ کو اس تجویز کو نمک کے ذرے کے طور پر لینا چاہیے۔ یہ ایک مثبت پیش رفت کی عکاس ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ سیکرٹری آف اسٹیٹ جان کیری روس کے ساتھ اس تجویز کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے کہ وہ اس میں کہاں تک سنجیدہ ہے‘‘۔

قبل ازیں جان کیری نے شام کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دے کر امریکا کے ممکنہ حملے سے بچ سکتا ہے۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے اپنے شامی ہم منصب ولید المعلم کے ساتھ اس تجویز کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے بعد میں بتایا کہ دمشق نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔

امریکی صدر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ شام کے خلاف فوجی حملے کے لیے کانگریس کی حمایت کے حصول میں ناکام رہ سکتے ہیں۔تاہم انھوں نے اس حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے کہ اگر ارکان کانگریس نے شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے ردعمل میں کارروائی کے لیے ان کی درخواست کو مسترد کردیا تو پھر وہ کیا کریں گے۔

این بی سی کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے کہا:’’میرے خیال میں یہ کہنا بہتر ہوگا کہ اگر کانگریس حملے کی حمایت نہیں کرتی ہے تو پھر میں نے آیندہ اقدام کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے‘‘۔

انھوں نے سوموار کو مختلف ٹی وی چینلز کو چھے انٹرویوز دیے ہیں اور ان میں شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی حمایت کے حوالے سے اظہار خیال کیا ہے۔انھوں نے پی بی ایس کے ساتھ انٹرویو میں بتایا کہ انھوں نے سینٹ پیٹرز برگ میں منعقدہ جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادی میر پوتین سے شامی بحران کے ممکنہ سیاسی حل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

درایں اثناء ری پبلکن پارٹی کے دوسرکردہ سینیٹروں جان مکین اور لنڈسے گراہم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’کانگریس کو طاقت کے استعمال کی اجازت کے منصوبے پر غور کرنا چاہیے اورآج ہونے والی پیش رفت کے بعد اراکین کو برضا ورغبت ہاں میں ووٹ دے دینا چاہیے‘‘۔

ان کا اشارہ شامی صدر بشارالاسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی تجویز کو تسلیم کرنے کی جانب تھا اور ان کے بہ قول کانگریس کو اس کے بعد شام کے خلاف طاقت استعمال کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں