سعودی شوہروں کی غیر ملکی بیگمات کے لئے شہری حقوق کے پیکج کا اعلان

مملکت میں رہائش کے لئے کفیل کی شرط ختم، مستقل اقامہ جاری کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی حکومت نے اپنے شہریوں کے عقد نکاح میں آنے والی غیر ملکی خواتین کے لئے شہری حقوق کے ایک عدیم النظیر پیکج کی منظوری دی ہے جس کے نفاذ سے ان خواتین کو معاشرے میں مساوی مقام دلانے میں مدد ملے گی۔

نئے قانون کے تحت سعودی بچوں کی غیر ملکی ماؤں کو مملکت مین رہایش اختیار کرنے کے لئے کفیل رکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی اور حکومت انہیں مملکت میں کسی بھی جگہ رہائش اختیار کرنے کے لیے مستقل "اقامہ" فراہم کرنے کی پابند ہو گی۔ یہ خواتین سعودی عرب کی مستقل شہریت رکھنے والی عورتوں کی طرح پرائیویٹ سیکٹرمیں ملازمت بھی کرسکیں گی اور ان سے ہونے والی اولاد کا حسب و نسب سعودی قرار دیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عبدالعزیز خوجہ نے بتایا کہ سعودی شہریوں کی غیر ملکی بیگمات کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق ضابطہ قانون حال ہی میں نائب وزیراعظم اور ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں پیش کیا گیا تھا، جسے کثرت رائے سے منظورکرلیا گیا ہے۔

وزیراطلاعات نے بتایا کہ کابینہ اجلاس کے دوران غیر ملکی خواتین سے متعلق اس مسودہ قانون کے بعض نکات میں ترمیم بھی کی گئی۔ ترمیم سے قبل کفیل رکھنے کی شرط کے ساتھ کفیل کی جانب سے مکفولہ کے اخراجات پورے کرنے کی شرائط بھی شامل تھیں، تاہم انہیں حذف کردیا گیا ہے۔ اب ریاست خود ہی ایسی خواتین کی کفیل ہوگی اور روزگار نہ ہونےکی صورت میں تمام اخراجات حکومت خود برداشت کرے گی۔ سعودی شہریوں کی غیرملکی بیگمات کو تعلیم، علاج اور سماجی شعبوں میں مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔

خیال رہے کہ سعودی وزارت قانون وانصاف کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایسے شہریوں کی کثیر تعداد موجود ہے جنہوں نے غیر ملکی خواتین سے شادیاں کر رکھی ہیں۔ گذشتہ برس مجموعی طور پر 7132 سعودی شوہرغیر ملکی شریک حیات بیاہ لائے تھے۔ مکہ مکرمہ اس اعتبار سے سعودی عرب کے دیگر شہروں میں سب سے آگے ہے جہاں غیر ملکی خواتین سے شادیاں رچانے والے مردوں کی تعداد 5229 رجسٹرڈ کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں