اسرائیلی مظالم کے حامی امریکی اداروں کیخلاف عدالتی چارہ جوئی کا فیصلہ

"قانون مذہب وملت کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

گذشتہ دو دہائیوں سے امریکا میں انسانی حقوق کے کام کرنے والی اسلامی اور عرب انجمنیں امریکا کی 'دہشت گردی' سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے عدالتوں سے رجوع اور مقدمات قائم کرتے چلے آ رہے ہیں، تاہم اس میں انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ دہشت گردی سے متاثرہ بعض افراد کو انصاف جبکہ چند کو معاوضہ، تاہم ایک بڑی اکثریت کسی بھی قسم کی داد رسی سے محروم رہی ہے۔ بہت سے مقدمات میں امریکی حکام کو سویلین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کے الزام میں عدالتوں کے چکربھی لگانا پڑے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی تاریخ میں پہلی بار دہشت گردی اور مظالم کے شکار فلسطینیوں نے ان امریکی اداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے جو مقبوضہ عرب علاقوں میں آبادکار یہودیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ امریکی اداروں، انتظامیہ اور کمپنیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں غیر قانونی طور پر آباد کیے گئے یہودیوں نے فلسطینیوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، لیکن وہ مظالم پرآنکھیں بند کیے یہودیوں کی مسلسل مدد اور حمایت کیے جا رہے ہیں۔ امریکا میں فلسطینیوں کے حقوق کا مقدمہ لڑنے کے لیے پیش پیش رانیہ شقیر کے پاس امریکا اور اسرائیل کی دوہری شہریت ہے۔ وہ ان دنوں امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں اور خواتین لائیرز فورم کی رکن ہیں۔

مس شقیر کا کہنا تھا کہ وکالت کے پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے دوران میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ مسلمان اور عرب ممالک کے بعض بنکوں اور دیگر اداروں کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کی بلاجواز شکایات آتی رہی ہیں۔ ایسی شکایات کو خوب اچھالا بھی جاتا ہے لیکن اسکے مقابلے میں فلسطین میں یہودی توسیع پسندوں کی ریاستی دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے خلاف شکایات کو دبا دیا جاتا ہے حالانکہ امریکی قانون مذہب اور رنگ ونسل کی بنیاد پر کسی قوم یا طبقے سے امتیازی رویہ اپنانے کی قطعی اجازت نہیں دیتا ہے۔

ایڈووکیٹ شقیر کا کہنا تھا کہ وہ امریکا میں ان اداروں اور کمپنیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جو فلسطین میں یہودیوں کے مظالم کی پردہ پوشی کرتے یا ان کی کھلے عام مدد کر رہے ہیں۔

رانیہ شقیر نے نیویارک میں اپنے ساتھی دیگرماہرین قانون کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کا مقدمہ پوری قوت سے لڑنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کا شکار ویسے تو تمام فلسطینی ہیں لیکن اس وقت ان کے پاس مغربی کنارے کے 13 فلسطینی باشندوں کی درخواستیں ہیں، جن میں سے کچھ امریکی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ انہیں مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں اور صہیونی فوج کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مس رانیہ شقیر کا کہنا تھا کہ صہیونی دہشت گردی سے متاثرہ تیرہ افراد میں سے چار افراد "الغیاظہ" خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جن پر مغربی کنارے میں یہودیوں نے قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کی تھی۔ سڑک پر چلتے ہوئے ان [فلسطینیوں] کی ٹیکسی پر یہودی آباد کاروں نے پٹرول بم پھینک کر اسے آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں چار افراد بری طرح جھلس کر رہ گئے تھے۔ ان چار کے علاوہ دیگر فلسطینیوں کی شکایت ہے کہ یہودی آباد کار ان سے "بھتہ" وصول کرتےہیں۔ یہ بھتہ فلسطینیوں کی جانب سے اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی شکایت کرنے کے انتقام میں لیا جاتا ہے تاکہ فلسطینی ظلم سہتے رہیں لیکن اسرائیلی عدالتوں میں اس کی شکایت تک نہ کریں۔ اگر شکایت کریں گے تو ان سے لاکھوں شیکل بھتہ لیا جائے گا۔

امریکا میں رہتے ہوئے رانیہ شقیر اور دیگر فلسطینی باشندے ان امریکی کمپنیوں، بنکوں، مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کےخلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے جو فلسطین میں یہودیوں آباد کاروں کی سرپرستی کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔ فلسطینیوں کی قانونی مساعی کے باوجود امریکی عدالتوں کی جانب سے انصاف کی توقع کتنی ہوسکتی ہے؟ اس کے بارے میں فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم اگر مظلوم اسرائیلی ہوں اور وہ کسی فلسطینی تنظیم کے حامی امریکی ادارے کے خلاف شکایت کریں توان کی یقینا شنوائی ہو سکتی ہے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں،لیکن سب سے اہم مثال کچھ ہی عرصہ قبل سامنے آئی۔

"امریکن ہولی لینڈ" [امریکی ارض مقدسہ] نامی ایک تنظیم کے خلاف امریکا اور اسرآئیل کے مشترکہ شہریت کے حامل خاندان نے یہ شکایت کی یہ تنظیم فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی مالی مدد کرتی ہے۔ حماس کے جنگجوؤں نے ایک کارروائی کرکے مقبوضہ فلسطین میں اس خاندان کے ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ لہٰذا عدالت حماس کی مدد کرنے والی تنظیم سے اس کا ہرجانہ دلوائے۔

امریکی عدالت نے اس کیس کو نمٹانے میں ذرا بھی دیر نہیں کی اور "ارض مقدسہ" سے ہرجانہ دلوایا گیا۔ قانون کی رو سے سب برابر ہیں اور کسی قوم کے ساتھ اس کے رنگ، نسل اور مذہب کی بنیاد پر فرق نہیں کیا جا سکتا، لیکن فلسطینیوں کے حقوق کا مقدمہ لڑنے والوں کو بھی اندازہ ہے کہ انہیں اپنے کیس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ امریکی عدالتیں یہودیوں کو انصاف دلانے میں جلدی کر سکتی ہیں لیکن فلسطینیوں کے لیے انہیں کوئی ایسی کوئی ہمدردی نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں