.

اہوازی ایڈمرل ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ مقرر

الشمحانی شکست خوردہ صدارتی امیدوار سعید جلیلی کے جانشین ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے پہلی مرتبہ اپنے ملک کے ایک عرب باشندے ایڈمرل علی شمخانی کو قومی سلامتی کمیٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر تعینات کیا ہے۔ ایران میں کسی عرب باشندے کی حساس ادارے کے اعلٰی ترین عہدے پرتعیناتی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔علی الشمخانی ایران نیوی کے سابق سربراہ ہیں۔ ان کا تعلق ایران کے عرب اکثریتی صوبہ اہواز کے الشمیخات قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی"فارس" کی رپورٹ کے مطابق علی الشمخانی ماضی میں بھی فوج سمیت کئی اعلٰی عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔ ایران کے امیر البحر کے عہدے کے بعد انہیں وزیر دفاع، اسٹریٹیجک کونسل برائے خارجہ امور کے رکن اورمسلح افواج کے زیرانتظام اسٹرٹیجک ڈیفنس سینٹرکے ڈائریکٹر جیسے اہم عہدے سونپے گئے تھے۔ ریٹائڑڈ ایڈمرل علی شمخانی کو اب سعید جلیلی کا جانشین مقرر کیا گیا ہے۔

مسٹر جلیلی سابق صدر محمود احمدی نژاد کے حامی بتائے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس سال کے آغاز میں صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا تاہم اصلاح پسند رہ نما حسن روحانی نے انہیں شکست دے دی تھی۔ سعید جلیلی ایران اور مغرب کے درمیان تہران کے جوہری تنازع پرمذاکرات کی قیادت کر چکے ہیں، تاہم ان مذاکرات میں کسی قسم کی پیش نہیں ہو سکی ہے۔

یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی نے جوہری تنازع پر مذاکرات کا اختیار قومی سلامتی کمیٹی سے واپس لے کر وزارت خارجہ کو سونپ دیا ہے۔ آئندہ اس حوالے سے مذاکرات وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی نگرانی میں ہوں گے۔ علی الشمخانی سابق اصلاح پسند صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے بھی "خاص آدمی" سمجھے جاتےہیں۔ علی شمخانی کا نقطہ نظر ایران کے سابق منحرف صدر ابوالحسن بنی صدر کے حوالے سے روایتی سیاست دانوں اور حکومتی عمال سے مختلف ہے۔ وہ بنی صدر کو باغی یا "خائن" نہیں قرار دیتے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ عراق۔ایران جنگ کے دوران بنی صدر نے مسلح افواج پرکنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

منحرف ابو الحسن بنی صدر ان دنوں فرانس میں ہیں۔ ان پرالزام ہے کہ وہ ایران مخالف تنظیم "مجاہدین خلق" کے ساتھ مل کر تہران میں ولایت فقیہ کا نظام ختم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔