.

بھارت: ہاتھی دانت، کروڑوں ڈالر کا اثاثہ مسئلہ بن گیا

خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی کے بعد ضائع کرنے کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی ریاست کیرالا کے محکمہ جنگلات کے جنگلی حیات کے شعبے کے سربراہ گوپی ناتھن نے 1990ء سے لیکر اب تک قبضے میں لیے گئے کروڑوں ڈالر مالیت کے تقریباً 8000 کلو گرام دانت ضائع کرنے کے لیے ریاستی حکومت سے اجازت طلب کی ہے۔

گوپی ناتھن نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ انہوں نے ریاستی حکومت کو لکھے اپنے ایک مراسلے میں ان بیش قیمت ہاتھی دانتوں کو ختم کرنے کی اجازت لی کیونکہ بین الاقوامی اور بھارت کے قانون برائے تحفظ جنگلی حیات کے تحت ہاتھی دانت کسی بھی چیز میں استعمال نہیں کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ اس سے ہاتھیوں کی نسل کے خاتمے کا خدشہ تھا۔

ان جنگلی حیات کے شعبے کے ریاستی سربراہ کے مطابق ان کے محکمے کے پاس ہاتھی دانتوں کا بیش قیمت اثاثہ موجود ہے مگر یہ ہمارے کسی کام کا نہیں ہے۔ جبکہ اس کی حفاظت پر اس سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔

واضح رہے ہاتھی دانتوں کے اس 8000 کلو گرام وزنی اثاثے کی عالمی بلیک مارکیٹ میں ان کی قیمت کروڑوں ڈالرز تک ہے۔ ان کی حتمی قیمت کے بارے ایک سوال پر بھارتی ذمہ دار کا کہنا تھا "ابھی تک قیمت کا تعین نہیں کیا جا سکا کیونکہ ہاتھی دانتوں کی خرید و فروخت بھی قوانین کے خلاف ہے اس لیے ہمیں حکومت کی طرف سے انہیں ختم کرنے کی اجازت کا انتظار ہے۔"

عجائب گھر میں رکھے جانے کے حوالے سے انہوں نے کہ اتنی بڑی تعداد کو وہاں نہیں رکھا جا سکتا وہاں رکھنے کے بعد بھی کافی تعداد میں ہاتھی دانت بچ جائیں گے۔ اسی کی دہائی تک ان کی مانگ میں کافی اضافہ تھا کیونکہ کافی ایسی چیزیں تھیں جن کی تیاری میں ہاتھی دانت استعمال ہوتے تھے اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتے تھے۔

گوپی ناتھن نے مزید بتایا کہ اگر کسی کے پاس ہاتھی دانت کی موجودگی کا پتہ چل جائے تو اس کے خلاف مقدمہ کیا جا سکتا ہے اور اس جرم کی سات سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔