.

شامی ہتھیاروں سے متعلق روسی منصوبہ امریکا کے حوالے

جنیوا میں شامی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی حکام نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے سے متعلق منصوبہ امریکا کے حوالے کردیا ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسیوں نے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ وزیرخارجہ سرگئی لاروف جمعرات کو جنیوا میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ اس مجوزہ منصوبے کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

شام نے گذشتہ روز روس کی اس تجویز کے ردعمل میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو ظاہر کرنے اور ان کی پیدوار بند کرنے کو تیار ہے۔ امریکی صدر براک اوباما نے اس تجویز کو مثبت قرار دے کر اس کا خیر مقدم کیا تھا اور کانگریس سے شام میں امریکا کی مجوزہ فوجی کارروائی سے متعلق قرارداد پر رائے شماری موخر کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ بحران کے حل کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا جاسکے۔

فرانس نے روس کی نئی تجویز کی روشنی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرنے کے لیے قرارداد کا ایک نیا مسودہ تیار کیا ہے جس میں شام سے کہا جائے گا کہ وہ پندرہ روز کے اندر اپنے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق مکمل اعلامیہ جاری کرے اور تمام متعلقہ جگہوں کو اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے کھول دے۔ دوسری صورت میں اس کے خلاف سخت تعزیری پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔

اجتماعی ناکامی

درایں اثناءاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ شامی آبادی کے تحفظ کے معاملے میں اجتماعی ناکامی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ شامی جنگ کے حوالے سے کوئی اقدام کرے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے امتناع نسل کشی سے متعلق ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’شام میں گذشتہ ڈھائی سال کے دوران ہم اجتماعی طور پر انسانیت کش جرائم روکنے میں ناکام رہے ہیں اور یہ اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک پر بہت بڑا بوجھ ہے‘‘۔اس موقع پر بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کے صدر پیٹر مورر نے کہا کہ شامی تنازعے کے دونوں فریق حکومت اور باغی جنگجو بیماروں اور زخمیوں تک طبی امداد پہنچانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ انھوں نے امریکا اور روس پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں امدادی کارکنان کی متاثرہ افراد تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں اور دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ جنیوا میں اپنی ملاقات میں اس مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کریں۔