.

مصر: منتخب صدر کا تختہ الٹنے پر’’برانڈ سیسی‘‘ کی مشہوری

مسلح افواج کے سربراہ کو تقدس مآب شخصیت بنانے کے لیے مہم جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے ملکی تاریخ کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا 3 جولائی کو تختہ کیا الٹا ہے کہ اب ان کے مداح انھیں ہاتھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں اور ہر جگہ حتیٰ کہ کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر سماجی میڈیا تک انہی کے نام کے چرچے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ مصری پاکستان کے لاہوریوں کی طرح زبردست حس مزاح کے مالک ہیں اور وہ غم ناک اور الم ناک صورت حال میں بھی مزاح اور ظرافت کا کوئی نہ کوئی پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں لیکن وہ جمہوریت اور جمہوری حکومت کے معاملے پر بڑے متلون مزاج ثابت ہوئے ہیں جبکہ اس کے برعکس وہ مطلق العنان اور آمر حکمرانوں کے ادوار حکومت میں بڑے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔

اس کا مظہران کی حالیہ تاریخ ہے۔ انھوں نے حسنی مبارک ایسے مطلق العنان آمر صدر کو تو تیس سال تک برداشت کیے رکھا لیکن وہ ایک منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو پورا ایک سال بھی برداشت نہ کرسکے اور ان کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ پھر ان کے احتجاجی مظاہروں کو جواز بنا کر مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی کو بڑے بے آبرو مندانہ انداز میں ڈاکٹر مرسی کو چلتا کیا۔

اس ’’نرم اور گرم فوجی انقلاب‘‘ کے بعد عبدالفتاح السیسی ملک کے سب سے طاقتور شخص کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اب ان کے مداح ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔انھیں جنرل سیسی کا نام اتنا بھایا ہے کہ وہ ان کے نام پر مصنوعات اور اشیاء کے نام رکھ رہے ہیں۔ گویا مصر میں سیسی اب برانڈ نام بن چکا ہے۔

مصر کے ایک مشہور فاسٹ فوڈ چین نے حال ہی میں ’’سیسی سینڈوچ‘‘ متعارف کرایا ہے۔اس سے قبل ’’سی سی‘‘ (دو سی انگریزی کا) کے نام سے کوکیز منظرعام پر آئی تھیں اور رمضان المبارک کے دوران تو سیسی کھجوریں بکتی رہی ہیں۔اسی ہفتے قاہرہ کے ایک کنفیکشنری اسٹور پر سیسی چاکلیٹس اور کپ کیکس بھی فروخت کے لیے دستیاب ہوئے ہیں اور ان پر جنرل سیسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔

یہ تو دکانوں اور بازاروں میں جنرل سیسی کے نام کی بکری کا حال ہے۔ لیکن ان کے مداحوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹس پر بھی ان کے نام کا چرچا جاری رکھا ہوا ہے۔انھوں نے مسلح افواج کے سربراہ کی حمایت میں فیس بُک پر سیکڑوں صفحات بنا رکھے ہیں جن میں ان کے ساتھ اظہار وفاداری کیا گیا ہے۔ ان صفحات کو پسند کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

سوشل میڈیا پرجن تصاویر کی سب سے زیادہ تشہیر کی جا رہی ہے،ان میں جنرل سیسی ایک شیر یا عقاب کے ساتھ نظرآرہے ہیں۔ اس کے ساتھ لکھی تحریروں اور تبصروں میں ان کی مداح سرائی کی گئی اور انھیں مصر کا نجات دہندہ اور نہ جانے کیا کیا قرار دیا گیا ہے۔ان کا حامی الیکٹرانک میڈیا فوج کے حق میں نغمے نشر کر رہا ہے۔

مصر کا پرنٹ میڈیا بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہا۔ فوج اور موجودہ عبوری حکومت کے حامی جنرل سیسی کے اقدامات اور خاص طور پر قاہرہ میں اخوان المسلمون کے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے پر ان کی تحسین میں زمین وآسماں کے قلابے ملا رہے ہیں۔

مگر مصری سکیورٹی فورسز پر قاہرہ اور دوسرے شہروں میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض مشرقی اور مغربی ممالک نے کڑی تنقید کی ہے اور جنرل سیسی سب سے زیادہ اس کی زد میں آئے ہیں۔

صرف 14 اگست کو قاہرہ میں برطرف صدر کے حامیوں اور اخوان المسلمون کے کارکنان کے دو احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے فوجی طاقت کا جس طرح بے مہابا استعمال کیا گیا، مہذب ممالک میں اس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ اس کارروائی میں مصری حکومت کے بہ قول چھے سو افراد اور اخوان کے اعداد وشمار کے مطابق دوہزار دو افراد مارے گئے تھے۔

ان سیکڑوں پرامن مظاہرین کی ہلاکتوں پر کسی قسم کے دکھ یا افسوس کا اظہار کرنے کے بجائے بعض مصری لکھاری جنرل عبدالفتاح السیسی کی شخصیت کو تقدس مآب بنانے کی مہم پر عمل پیرا ہیں اور ان کا مصر کے سابق انقلابی صدر مرحوم جمال عبدالناصر سے موازنہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ قاہرہ اور دوسرے شہروں میں ان دونوں کی تصاویر پر مبنی بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔ مرحوم ناصرنے 1952ء میں بادشاہت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تھا اور 1956ء میں نہر سویز کو قومیا لیا تھا اور برطانوی فورسز کا قبضہ ختم کرایا تھا۔ ملک سے جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا تھا اور مفت تعلیم کو عام کیا تھا۔

تجزیہ کار ڈاکٹر عمرآشور کا کہنا ہے کہ ’’جنرل سیسی کے جمال عبدالناصر کے ساتھ موازنے کے ذریعے ان کے اقدام کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘‘۔ اس کے ساتھ ساتھ اب جنرل سیسی کو صدارتی انتخاب لڑنے پرآٓمادہ کرنے کی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے اور تو اور حسنی مبارک کے آخری وزیراعظم اور ڈاکٹر مرسی سے شکست خوردہ صدارتی امیدوار احمد شفیق نے بھی اگلے روز اعلان کردیا ہے کہ اگر جنرل سیسی صدارتی امیدوار ہوئے تو وہ پھر انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور سب سے پہلے ان کی حمایت کریں گے۔ اب یہ تو مصری ہی بہتر بتا سکتے ہیں جب باوردی جنرل صدارتی انتخاب لڑیں گے اور منتخب بھی ہو جائیں گے تو ایسے ملک میں حقیقی جمہوریت کیسے اور کہاں سے آئے گی اور عوام کی حکمرانی کب قائم ہو گی؟