.

نومبر سے غیر قانونی تارکین وطن برداشت نہیں: سعودی حکام

رواں سال بھارتی، پاکستانی اور بنگالی غیر قانونی تارکین وطن نے فائدہ اٹھایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت داخلہ اور وزارت محنت نے غیر قانونی تارکین وطن کو انتباہ کیا ہے کہ وہ 3 نومبر تک دی جانے والی رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی رہائش اور اپنے کام کو قانون کے دائرے میں لے آئیں۔ بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی سے مشکل کا سامنا کرنا ہو گا۔

دونوں وزارتوں کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر موجعد غیر ملکی تارکین وطن کو اپنے قیام کو قانونی شکل دینے کے لئے قانون کے مطابق حکومتی ایجنسیوں سے رابطہ کر لینا چاہیے۔ اگر قانونی کور حاصل نہ کیا گیا تو ایسے تارکین وطن اور وہ افراد جن کے لئے وہ کام کرتے ہیں انہیں قانون کے مطابق سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تین نومبر کے بعد کسی کے لیے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔"

واضح رہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ نے کچھ عرصہ قبل وزارت خارجہ، داخلہ اور لیبر کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے غیر ملکی تارکین وطن کے لیے رعایتی دورانیے میں توسیع کردی تھی تا کہ سعودی عرب میں موجود لاکھوں تارکین وطن کو قانونی حیثیت دی جا سکے۔

شاہی فرمان میں غیر ملکی سفارتخانوں کا حوالہ بھی دیا گیا تھا جن کا کہنا تھا کہ ان کے تارکین وطن کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے ان کے سفارتی مشنوں پر بہت دبائو ہے۔ شاہی فرمان میں خبردار کیا گیا تھا کہ رعایتی دورانیے کی مدت ختم ہونے کے بعد مملکت میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کریک ڈاون کیا جائے گا۔

اب تک لاکھوں تارکین وطن اس رعایتی دورانیے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی قانونی حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔ ان تارکین وطن میں سے اکثریت کا تعلق بھارت، پاکستان، فلپائن، انڈونیشیا، سری لنکا، بنگلادیش، مصر، نیپال اور یمن سے ہے۔