.

ہمارے دل 9/11 کے مقتولین کے لیے اب بھی افسردہ ہیں: اوباما

امریکا میں دہشت گردی کے حملوں میں مارے گئے افراد کے لیے دعائیہ تقریبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں 11 ستمبر2001ء کو دہشت گردی کے حملوں کی بارھویں برسی منائی جارہی ہے۔ اس موقع پر پینٹاگان میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ’’ ہمارے دل اب بھی ان حملوں میں مارے گئے افراد کے لیے افسردہ ہیں‘‘۔

انھوں نے بدھ کو نائن الیون حملوں کی برسی کے موقع پر دو تقاریب میں شرکت کی ہے۔ ان حملوں میں مارے گئے امریکیوں کی یاد میں پہلی تقریب وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی اور اس کے بعد دوسری تقریب پینٹاگان میں منعقد کی گئی ہے۔

براک اوباما نے کہا کہ ’’ہم سے جن بے گناہ روحوں کو چھین لیا گیا، ہمارے دل آج بھی ان کی یاد میں رو رہے اور غمگین ہیں‘‘۔ انھوں نے ان مقتولین کے لواحقین کو بھی کو بے پایاں صبر وہمت کا مظاہرہ کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔

امریکی صدر نے 11ستمبر کے حملوں کے ردعمل میں افغانستان میں جاری جنگ میں خدمات انجام دینے والے امریکی فوجیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ جنگ اب ختم ہونے کو ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے دہشت گردی کے ان حملوں کے ایک ماہ کے بعد ہی اکتوبر2001ء میں القاعدہ اور طالبان کا قلع قمع کرنے کے نام پر افغانستان پر چڑھائی کردی تھی اور وہاں امریکا اور اس کے نیٹو اتحادیوں کی جنگی کارروائیوں میں ہزاروں لاکھوں افراد مارے گئے ہیں اور جنگ زدہ ملک کا چپہ چپہ ادھڑ چکا ہے۔

بارہ سال قبل القاعدہ کے مبینہ فدائی حملہ آٓوروں نے دو مسافر طیارے اغوا کرنے کے بعد نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دو بلند و بالا ٹاورز سے ٹکرا دیے تھے جس کے نتیجے میں کم سے کم تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔

حملہ آوروں نے تیسرا مسافر طیارہ واشنگٹن میں واقع امریکا کی ہیبت کی علامت پنیٹاگان کی عمارت سے جا ٹکرایا تھا۔ اس واقعے میں 184 افراد مارے گئے تھے۔ ان میں امریکی محکمہ دفاع کے بعض اعلیٰ افسر بھی شامل تھے۔

القاعدہ کے مبینہ حملہ آوروں نے چوتھا مسافر طیارہ ریاست پنسلوینیا کے علاقے شانکسویلی میں زمین سے ٹکرا کر تباہ کردیا تھا اور اس واقعے میں طیارے میں سوار تمام مسافر مارے گئے تھے۔ اس پرواز93 کے مسافروں نے مبینہ طور پر ہائی جیکروں سے گتھم گتھا ہوکر ان کی طیارہ واشنگٹن لے جا کر تباہ کرنے کی سازش ناکام بنا دی تھی۔

القاعدہ کے مبینہ دہشت گردوں نے نیوآرک نیو جرسی سے سان فرانسیسکو جانے والی پرواز کو اس کے اڑان بھرنے کے چھیالیس منٹ کے بعد اغوا کرلیا تھا اور اس کو واشنگٹن کی جانب لے جانے کی کوشش کی تھی۔ اس کا بظاہر ہدف واشنگٹن میں کیپٹل ہل کی بلڈنگ تھی۔

لیکن اس کے مسافروں نے ہائی جیکروں سے نبرد آزما ہونے کا فیصلہ کیا اور یہ بوئنگ 757 طیارہ پنسلوینیا کے نزدیک مقامی وقت کے مطابق صبح دس بج کر تین منٹ پر گر کر تباہ ہوگیا تھا اور اس میں سوار تمام چالیس مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔اس وقت اس کے واشنگٹن پہنچنے میں صرف بیس منٹ رہ گئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد سے امریکا نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کررکھے ہیں۔ تاہم نائن الیون کو پیش آئے واقعات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے ایک سابق رکن کا کہنا ہے کہ ان کی سفارشات پر من وعن عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سکیورٹی میں بعض سقم پائے جاتے ہیں اور دہشت گردوں کو گاہے گاہے چھوٹی موٹی کارروائیاں کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔