.

جرمنی: مسلمان طالبات کے لئے ہم جماعت لڑکوں کے ہمراہ پیراکی لازمی قرار

فیصلہ جرمنی کی ایک عدالت نے مسلمان طالبہ کی اپیل پر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی ایک اعلیٰ ترین عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ مخلوط تعلیم والے اداروں میں مسلمان طالبات کو لازمی طور پر اپنے ہم جماعت لڑکوں کے ساتھ تیراکی کے اسباق لینا ہوں گے۔ جرمن شہر لائپزگ میں ایک تیرہ سالہ مسلمان طالبہ نے لڑکوں کے ہمراہ تیراکی کے اسباق لینے سے انکار کر دیا تھا۔ جرمنی کی اعلیٰ انتظامی عدالت نے اس کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بُرکنی پہن کر تیراکی کرنا اسلامی معاشرتی معیار کے مطابق ہے۔

ادھر ایک اور مقدمے میں اسی عدالت نے عیسائی مذہب کے ایک فرقے 'یہووا' سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی اپیل کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ اس شخص نے اپنے بیٹے کو جرمن زبان کے پیریڈ کے دوران دکھائی جانے والی فلم ’کرابات‘ دیکھنے سے منع کر دیا تھا۔ اس شخص کے مطابق اس فلم میں کالا جادو دکھایا گیا ہے اور یہ ان کی مذہبی تعلیمات کے برعکس ہے۔ ان دونوں کیسوں میں عدالت کی طرف سے انفرادی سطح پر مذہبی آزادی اور نوجوانوں کو تعلیم دینے کی آئینی اور ریاستی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے سنائے گئے ہیں۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق تیرہ سالہ مسلمان طالبہ کے اہل خانہ کا تعلق مراکش سے ہے۔ اس مسلمان لڑکی کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ بُرکنی پہن کر سوئمنگ کرنے میں شرم محسوس کرتی ہے اور لڑکوں کے ساتھ مل کر ایسا کرنا اس کی مذہبی آزادی کے برعکس ہے۔ اس لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ سوئمنگ ہال میں لڑکوں نے نہایت کم کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ اس مقدمے میں مسلمان طالبہ کا کہنا تھا کہ اسے سوئمنگ کی کلاسوں سے چھوٹ دی جائے۔

بُرکنی ایک ایسا سوئمنگ سوٹ ہے، جس کے پہننے سے صرف چہرہ، ہاتھ اور پاؤں دکھائی دیتے ہیں۔ وفاقی عدالت کے صدر جج ویرنر نوئمان کا کہنا تھا، ’’ بُرکنی پہن کر سوئمنگ سیکھنا مسلمانوں کے خیالات کے مطابق ہے۔‘‘ جرمن عدالت کا کہنا تھا سوئمنگ ہال میں کم اور ڈھیلے لباس ميں ملبوس لڑکوں کی موجودگی انفرادی سطح پر مذہبی آزادی کی کوئی بڑی خلاف ورزی نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق اس طرح کا لباس لوگ موسم گرما میں جرمنی کی سڑکوں پر پہن کر گھومتے ہیں۔

جج ویرنر نوئمان کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ جرمنی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بستے ہیں اور اس لیے اسکولوں کے معاملے میں ہر کسی کے تحفظات پر غور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کیا گیا تو اسکولوں میں پڑھائے جانے والے مضامین ميں بھی فرق پیدا ہوتا جائے گا۔