.

بھارت: طالبہ اجتماعی زیادتی کیس، چار ملزمان کو سزائے موت

چمکتے بھارت کے چہرے پر خاتون صحافی اجتماعی زیادتی کیس کا داغ موجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی ایک عدالت نے 23 سالہ طالبہ علم کے ساتھ دوران سفر بس میں کی گئی اجتماعی زیادتی کیس میں چار ملزموں کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وکیل استغاثہ نے اس واقعے کو ظلم کی انتہا قرار دیا، جبکہ اجتماعی زیادتی کے بعد صدمے سے آنجہانی ہو جانے والی نربھایا کے اہل خانہ نے وحشی ملزموں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔

ملزموں کے وکیل صفائی کے مطابق سزائے موت کے بجائے عمر قید کی سزا دی جانی چاہیے تھی۔ تفصیلات کے مطابق اجتماٰعی زیادتی کے سامنے آنے والے اس ظالمانہ اور غیر انسانی فعل نے چمکتے بھارت کا ایک اور چہرہ دنیا کو دکھایا تھا۔

بعد ازاں ممبئی میں اسی نوعیت کے پیش آنے والے ایک اور واقعے میں ایک خاتون فوٹو جرنلسٹ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے باعث بھارتی سماج کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم جمعہ کے روز عدالتی فیصلے کے سامنے آنے سے ایک جانب بھارتی معاشرے کے چہرے کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا دوسری جانب ممبئی اجتماعی زیادتی کیس کے جلد اور ملزمان کے لیے قرار واقعی سزا دینے سے متعلق فیصلہ کا مطالبہ بھی بڑھ جائے گا۔

گزشتہ سال ماہ دسمبر میں فزیو تھراپی کی تعلیم پانے والی 23 سالہ طالبہ علم نربھایا اپنے ایک ہندو دوست کے ساتھ نئی دہلی میں فلم دیکھنے کے بعد رات گئے اپنے اسی دوست کے ساتھ دہلی کے مضافات میں گھر کو جا رہی تھی کہ بس کا ڈرائیور اور اس کے بس میں موجود پانچ دیگر بھارتی نوجوان شراب کے نشے میں دھت تھے۔ وہ رات گئے مسافروں کے کم ہوجانے کے اس سمے میں کسی ''شکار'' کی تلاش میں تھے تاکہ اپنی ظالمانہ ہوس پوری کر سکی۔

ان چھ بھارتی شہریوں نے اپنی ہی ایک ہم وطن کے طالبہ علم کو چلتی بس میں اس کی مزاحمت کے باوجو مسلسل ایک گھنٹے تک تشدد اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔اس دوران نربھایا کے ہمسفر دوست کو بھی سخت تششد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں دونوں کو بس سے نیچے پھینک کر بس بھگا لے گئے۔

نربھایا صدمے اور اندرونی و بیرونی زخموں کے باعث جانبر نہ رہ سکی اور دو ہفتے بعد لقمہ اجل بن گئی۔ بھارت میں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا نے اس معاملے پر خوب شور مچایا جس کی وجہ سے ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی۔

اس کے علاوہ اس کیس میں ملوث مزید دو ملزمان کے مقدر کا فیصلہ اس ہفتے سے پہلے ہی ہو چکا ہے۔ 35 سالہ رام سنگھ مارچ کے مہینے میں جیل کی کوٹھڑی میں مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نے خودکشی کی تھی مگر ملزم کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ اسے قتل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اس کیس میں ملوث ایک اور ملزم 17 سالہ لڑکے کو اس گینگ ریپ میں حصہ لینے کی وجہ سے نابالغ بچوں کی عدالت میں کیس چلایا گیا اور اسے 3 سال کے لئے نابالغوں کی اصلاح کے مرکز میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

دنیا بھر کے مختلف ممالک کی طرح بھارت میں بھی زیادتی کے جرائم اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔ بھارٹی حکومت کے اعداد کے مطابق ایک اندازے کے مطابق ہر 22 منٹ میں ایک خاتون کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ مگر نئی دہلی میں ہونے والے اس ہولناک واقعے نے عوام، سول تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب ہو گیا تھا جس کی وجہ سے آج یہ فیصلہ ہمیں دیکھنے کو ملا ہے۔