.

نریندرا مودی بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نامزد

بھارت میں 2014ء کے عام انتخابات میں پارٹی کو کامیابی دلانے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ریاست گجرات کے وزیراعلی اور ماضی میں مسلم کش فسادات کے مرکزی کردار نریندرا مودی کو ملک میں آیندہ سال ہونے والے عام انتخابات کے لیے وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کردیا ہے۔

بی جے پی کے بزرگ لیڈر لال کرشن ایڈوانی نے نریندرا مودی کو وزارت عظمیٰ کے منصب کے لیے امیدوار نامزد کرنے کی مخالفت کی ہے لیکن ان کی جماعت نے ان کی تنقید اور مخالفت کو درخور اعتناء نہیں جانا۔

نریندرا مودی انتہا پسند ہندو خیال کیے جاتے ہیں اور وہ گذشتہ قریباً ڈیڑھ عشرے سے جنوبی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ چلے آرہے ہیں۔ انھی کے دور حکومت میں 2001ء میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کا اندوہناک واقعہ پیش آیا تھا اور انتہا پسند ہندو بلوائیوں نے سیکڑوں مسلمانوں کو اذیتیں دے کر ہلاک کردیا تھا لیکن نریندرا مودی کی حکومت مسلمانوں پر ہندو بلوائیوں کے مظالم اور حملوں کو رکوانے میں ناکام رہی تھی بلکہ بھارتی میڈیا کی رپورٹَس کے مطابق مسلمانوں کے قاتلوں کو مودی حکومت کی سرپرستی حاصل رہی تھی۔

اب انھی داغ دار ماضی کے حامل اور انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پرسنگین خلاف ورزیوں میں ملوث نریندرا مودی کو بی جے پی کی پارلیمانی پارٹی نے 2014ء میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کردیا ہے۔

انھوں نے نئی دہلی میں جمعہ کو نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''بی جے پی نے مجھے ہمیشہ مختلف حیثیتوں میں پارٹی اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنے کا موقع عطا کیا ہے۔ آج بی جے پی کی مرکزی قیادت نے مجھے ایک بڑی ذمے داری سونپی ہے''۔

''میرایقین ہے کہ پورا ملک اب بی جے پی کے ساتھ ایک نئے دور میں داخل ہوگا اور مستقبل میں ہمیں پوری قوم کی حمایت حاصل ہوگی۔ میں 2014ء کے انتخابات میں بی جے پی کو کامیاب کرانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کروں گا''۔

مودی صاحب نے درست ہی کہا ہے اگر آیندہ عام انتخابات میں ان کی جماعت کامیابی حاصل کر لیتی اور وہ وزیراعظم بن جاتے ہیں تو پھر ان کے ماضی کے ریکارڈ کے پیش نظر اقلیتوں اور خاص طور پر مسلم اقلیت کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔

گجرات کے وزیراعلیٰ نے نیوزکانفرنس میں پارٹی قیادت کے علاوہ میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے ان کے بہ قول بی جے پی کے لیے امید کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے بھارت کی موجودہ حکمراں کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم کرپشن کے خلاف جنگ لڑیں گے۔ قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور اچھی حکمرانی اور ترقی کے لیے کام کریں گے''۔

بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد نریندرا مودی کو وزارت عظمیٰ کے لیے امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم اس اجلاس میں بزرگ لیڈر ایل کے ایڈوانی نے شرکت نہیں کی۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے انھیں مودی کی حمایت پر آمادہ کرنے کے لیے بہتیری کوششیں کی ہیں لیکن انھوں نے مودی کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کرنے کی مخالفت جاری رکھی ہے۔

واضح رہے کہ اسی سال کے آغاز میں جب نریندرا مودی کو گوا میں بی جے پی کی انتخابی مہم کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا تو ایل کے ایڈوانی اس فیصلے کے خلاف احتجاج کے طور پر تمام پارٹی عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔