انڈونشیا: مقابلہ حسن کیخلاف احتجاج، مسلم ورلڈ مقابلے کا اعلان

مسلم ورلڈ مقابلے میں اسلامی طرز زندگی اور پردہ معیار ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انڈونشیا میں ہونے والے مس ورلڈ کے مقابلے کے خلاف مختلف تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مقامی اسلامی تنظیموں کی جانب سے مس ورلڈ کے مقابلے میں اسلامی مس ورلڈ مقابلے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

مسلم دنیا کے عنوان سے ہونے والے اس مقابلے کی بانی ایکا شانتی نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اس مقابلہ کا اہتمام انڈونشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم دنیا کے اس خوبصورتی کے مقابلے کا طریقہ دوسرے مقابلہ حسن کے طریقوں سے قدرے مختلف ہے۔

اس مقابلے کی ضروریات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں شرکت کےلیے آپ کو متقی، پرہیز گار، نیک ہونا چاہیے۔ مثبت طرز زندگی کے علاوہ روحانیت کے اقدار پر پورا اترنے والی خصوصیات اس مقابلے کے اہم اجزا میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 500 امیدواروں میں سے آخری بیس کا فیصلہ کر لیا گیا جنہوں نے آن لائن اس مقابلے میں حصہ لیا تھا۔

امیدواروں کو چننے کے حوالے سے شانتی نے کہا کہ پہلے ان سے تلاوت قرآن مجید کرائی گئی بعد ازاں انہیں یہ دکھانا تھا کہ آیا یہ اپنے سر کو کیسے بہتر انداز میں ڈھانپ سکتی ہیں۔ مقابلے میں شرکت کی متمنی تمام امیدواروں کا تعلق متخلف اسلامی ممالک سے بتایا گیا ہے جن میں سے اکثریت بنگلہ دیش، ایران، ملائشیا، نائجیریا اور برونائی سے ہے۔

مقابلے میں جدید ترین اسلامی لباس پردے کے حوالے سےزیب تن کیا جائے گا، تاکہ نوجوان مسلم خواتین میں آگاہی ہیدا کی جا سکے کہ اسلام میں پردے کی کیا اہمیت ہے اور پردہ خواتین کے لیے کیوں ضروری ہے، تاہم شانتی نے کہا کہ اس مقابلے کو موخر یا معطل کرنے کا ابھی ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ انڈونیشا ایک متنوع اسلامی ملک ہے اور وہ کسی ایسی اپیل یا دھمکی کو خاطر نہیں لاتیں۔

دنیائے جدید کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے شانتی نے کہا کہ ہم مقابلہ حسن کو صرف ایسے ہی ایونٹس سے مات دے سکتے ہیں۔ ہم مکمل طور پر مقابلہ حسن کا انکار نہیں کر سکتے۔ ہمیں اب یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا ہم اپنے بچوں کو کس طرح دین کے پاس لا سکتے ہیں کہ آیا وہ مقابلہ حسن جیتنے والی خواتین بننا پسند کریں گے یا مسلم ورلڈ جیسے عنوان سے بننے والے مقابلہ حسن والی خواتین بننا پسند کریں گے۔

احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انڈونشیا کے حکام نے واضح کیا کہ مقابلہ حسن کو انڈونشیا کے دوسرے شہر بالی منتقل کیا گیا ہے ۔ وہاں کی ہندو اکثریت عالمی مقابلہ حسن کے ساتھ ہے۔ مس ورلڈ کے مقابلے میں شامل ایک راونڈ ایسا بھی ہے جس میں امیدواروں تقریباً برہنہ ہونا پڑتا ہے، جس کے خلاف ایک ایسا شدید ردعمل دیکھا گیا، احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور مظاہرین نے ایسے مقابلوں کے پوسڑز نذر آتش کرتے ہوئے حکام سے پر زور مطالبہ کیا کہ ایسے مقابلوں کے انعقاد پر بابندی لگائی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں