روس، ایرانی ایٹمی پروگرام کا تنازعہ حل کرانے میں مدد دے: روحانی

ایرانی صدر نے یہ درخواست روسی ہم منصب سے ملاقات میں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر حسن روحانی نے روس کے صدر ولادمیر پوتن سے ملاقات میں تہران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام پر مدد اور اسے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی ان دنوں کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے بشکیک میں ہیں۔

بشکیک میں ٹیلی وژن پر روحانی نے پوتن کو بتایا کہ "جہاں تک ایران کے ایٹمی مسئلے کا تعلق ہے، ہم اس مسئلہ کو بین الاقوامی معیار کے فریم ورک کے اندر جتنا جلد ممکن ہو ،حل کرنا چاہتے ہی۔"

انہوں نے کہا کہ ماضی میں روس نے اس شعبے میں اہم اقدامات کیے تھے اور اب بھی بہترین موقع ہے کہ روس ایسے قدم اُٹھائے۔

دونوں رہنماؤں نے کرغزستان میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر پہلی بار ملاقات کی۔ یہ ملاقات مرکزی اجلاس سے ہٹ کر کی گئی جسے سائیڈ لائن میٹنگ کہا جاتا ہے۔

روحانی نے کہا کہ ملاقات میں حساس علاقائی مسائل اور بین الاقوامی موضوعات پر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔

پوتن کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ کتنے بین الاقوامی معاملات ایرانی نیوکلیئر پروگرام سے وابستہ ہیں، لیکن روس اور بھی بہت کچھ جانتا ہے، کہ ایران ہمارا پڑوسی اور ایک اچھا ہمسایہ ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ ہم اپنے پڑوسیوں کا انتخاب نہیں کرتے،”

کومرسینٹ ڈیلی نامی اخبار نے اپنی حالیہ اشاعت میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پوتن روس کی طرف سے ایران کے بوشہر ایٹمی پاور پلانٹ پر دوسرا ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر کی پیشکش کرنے والے ہیں۔ 'ہمارے پاس ہمیشہ ہی تعاون کیلئے بہت کچھ ہوتا ہے، اب بھی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا،' پوتن نے کہا۔

پوتن نے ایران کو S-300 جدید ترین ایئر ڈیفینس میزائل کے معاہدے کی دوبارہ بحالی کی پیشکش بھی کی ہے جسے روس نے 2010 میں بین الاقوامی دباؤ کے باعث منسوخ کر دیا تھا۔

سفارتی ذرائع نے کہا کہ پوتن نے یہ پیشکش ایران کے اس ہرجانے سے دستبرداری پر کی ہے جس کے تحت مجوزہ معاہدہ ختم کرنے پر ایران نے روس پر تین ارب یورو کا ہرجانہ دائر کیا تھا۔

پوتن کے ترجمان دمیتری پسکوف نے روسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کی تردید کی کہ روس نے ایران کو کسی قسم کے اسلحہ کی پیشکش کی ہے۔

ماسکو نے بین الاقوامی مخالفت کے باوجود ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام پر معاونت کی ہے۔ جبکہ مغربی طاقتوں اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے، ایران کا اصرار ہے کہ اس کا یہ پروگرام پر امن ہے۔ روس نے روحانی کے برسراقتدار آنے کے بعد مغرب سے ایران کے خلاف پابندیاں نرم کرے کے لیئے زور دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں