.

روس اور امریکا کا شام کے کیمیائی ہتھیار تباہ کرنے پر اتفاق

جیش الحر نے معاہدہ مسترد کر دیا، جنگ جاری رکھنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور روس شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے سے متعلق ایک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ شام کو اپنے ذخیرہ شدہ کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔

دوسری جانب بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں پر مشتمل فری سیرئین آرمی (جیش الحر) نے کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے سے متعلق امریکا اور روس کے مابین ہونے والے معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔

جنیوا میں مذاکرت کے تیسرے روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شام کو فوری طور پر بین الاقوامی انسپکڑوں کو جانچ پڑتال کی اجازت دینا ہوگی۔ جان کیری کا مزید کہنا تھا کہ اسلحہ انسپکٹر نومبر میں اپنا کام شروع کردیں گے اور انہیں سن 2014ء کے وسط تک تمام کیمیائی ہتھیار ختم کرنا ہوں گے۔

دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر اسد حکومت کیمیائی ہتھیار تلف کرنے میں ناکام رہتی ہے تو سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرتے ہوئے اس کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں گی اور ممکنہ طور پر اس کے خلاف فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ امریکا اور روس کے مابین ہونے والے اس نئے معاہدے سے یہ خدشہ بھی ختم ہو گیا ہے کہ امریکا فوری طور پر شام میں کوئی فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے ایک تجزیے کے مطابق اگر ’جنیوا پلان‘ میں کسی نئی عبوری حکومت کے قیام کا ذکر ہوتا تو اسے کامیاب قرار دیا جا سکتا تھا۔ باغیوں پر مشتمل اپوزیشن متعدد مرتبہ کہہ چکی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے سیاسی عمل میں شامل نہیں ہو گی، جس میں صدر اسد شامل ہوں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شام کے کیمیائی ہتھیار ملک بھر کے خفیہ ٹھکانوں میں بکھرے پڑے ہیں اور انہیں بھی تباہ کرنے کے لیے شدید تکنیکی مسائل کا سامنا رہے گا۔

جنیوا میں مذاکرت کے تیسرے روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شام کو فوری طور پر بین الاقوامی انسپکڑوں کو جانچ پڑتال کی اجازت دینا ہوگی

درایں اثناء بشارا لاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں پر مشتمل فری سیرئین آرمی (جیش الحر) نے کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے سے متعلق امریکا اور روس کے مابین ہونے والے معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔ فری سیرئین آرمی کے کے چیف کمانڈر سلیم ادریس کا کہنا تھا کہ صدر بشارالاسد کی اقتدار سے بے دخلی تک لڑائی جاری رہے گی۔ ترکی کے شہر استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند روز سے صدر بشارالاسد نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو لبنان اور عراق منتقل کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ انہیں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے روسی صدر اور وزیر خارجہ پر الزام عاید کیا کہ وہ بشار الاسد کے قریبی عزیز رامی مخلوف سے رشوت لیکر شامی صدر کو بچانے میں سرگرم ہیں. انہوں نے دعوی کیا کہ میرے پاس اس بات کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں، جسے یہ دیکھنا ہوں وہ میرے دفتر آ جائے. جنرل ادریس نے واضح کیا کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار ختم ہونے سے پہلے جنیوا مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے.

میڈیا رپورٹوں کے مطابق شام کی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں اور ان میں سے صرف دو فیصد افراد کیمیائی ہتھیاروں سے ہلاک ہوئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس تازہ سفارتی پیش رفت کے باوجود ملک میں ہلاکتوں اور لڑائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسری جانب باغیوں اور حکومتی فورسز کے مابین لڑائی جاری ہے۔ ہفتے کے روز بھی حکومتی جنگی طیاروں نے باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دمشق کے مضافات میں ایک باغی طارق الدمشقی کا نیوز ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ حکومت گزشتہ دو برسوں سے لوگوں کو ہلاک کر رہی ہے اور یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ ثانوی چیز ہے کہ کس ہتھیار سے قتل کیا جا رہا ہے۔‘‘