.

سعودی فلم "وجدہ" پہلی مرتبہ آسکر ایوارڈ کی دوڑ میں شامل

کہانی خواتین کے سائیکل چلانے پر پابندی پر ایک ردعمل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں بنائی گئی پہلی فلم "وجدہ" عالمی آسکر ایوارڈ جیتنے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہے۔ فلم کی کہانی سائیکل چلانے کی خواہش رکھنے والی ایک لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جسے قانون اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔

دلچسپ بات ہے کہ اس فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد سعودی عرب میں نہ صرف خواتین کے سائیکلنگ کرنے پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے بلکہ یہ فلم عرب دنیا کی بہترین فلم کا ایوارڈ بھی جیت چکی ہے۔

یہ فلم بنیادی طور پر سعودی عرب کے ایک چھوٹے قصبے میں رہنے والی خاتون کی کاوش ہے جسے خود قانون کی پابندیوں کے باعث اپنی نوعمری میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کا سامنا رہا اور اس کے دل میں ان پابندیوں کے خلاف ایک ردعمل پرورش پاتا رہا۔

کہانی کے مطابق ایک دس سالہ بچی تلاوت قرآن کا مقابلہ جیت کر انعام میں ملنے والی رقم سے سائیکل خریدتی ہے لیکن لڑکیوں کے گلی کوچوں پر سائیکل چلانے پر پابندی اسے سائیکل فروخت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

اس فلم کے آسکر ایوارڈ کے لئے مقابلے میں پہنچنے کے بارے میں سعودی سوسائٹی برائے فن وثقافت کے سر براہ نے کہا ''ہمیں اس پر فخر ہے کہ ہمارے ملک کی ایک مستند اور ٹھوس نمائندگی ہو رہی ہے، اس فلم کی کہانی نے نہ صرف اپنے ملک کے ناظرین کو متاثر کیا بلکہ غیر ملکی ناظرین کی سماعتوں سے بھی اس کی گونج ٹکرائی ہے۔''

سعودی ساختہ یہ فلم اسی ہفتے کے اختتام پر لاس انیجلس میں سونی پکچرز کے ذریعے سامنے آئی ہے جسے مکمل طور پر سعودی عرب میں فلمایا گیا ہے ۔ اس سے پہلے ہی یہ فلم عرب دنیا کی بہترین فیچرفلم کا اعزاز جیت چکی ہے اور اس میں کام کرنے والی ادا کارہ بہترین اداکاری کا ایوارڈ پا چکی ہے۔

رواں سال کے شروع میں 39 سالہ ھیفاء المنصور نے ایک موقع پر کہا تھا '' یہ فلم روز مرہ کے حقائق پر ایک تبصرہ ہے ، جن کا خواتین کو اپنے ملک میں سامنا رہتا ہے۔ میرے خیال میں ان واقعات کا ہر روز سامنا رہتا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے کئی مرتبہ میں خود بھی کام کے لیے باہر نہیں نکل سکتی تھی۔''

کہا جاتا ہے کہ یہ فلم سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی گلیوں میں چُھپتے چھپاتے فلمائی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں