طالبان قیادت کی رہائی سے ان کے برسر جنگ ساتھیوں کا مورال بلند!

"رہا شدہ طالبان مذاکرات کی میز کے بجائے میدان جنگ لوٹ گئے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان ابتک تقریبا تینتیس افغان طالبان رہنما رہا کر چکا ہے تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی جیلوں سے رہا کیے گئے درجنوں طالبان دوبارہ میدان جنگ میں واپس جا رہے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق پاکستان کی طرف سے رہا کیے جانے والے 33 افغان طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مقصد امن مذاکرات میں مدد دینا تھا لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکل رہا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بااثر طالبان مزاحمت کاروں کی رہائی کا مقصد کسی نہ کسی طریقے سے مذاکرات کا آغاز ہے لیکن ان کی رہائی سے میدان جنگ میں مصروف دیگر عسکریت پسندوں کے حوصلے بلند بھی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ درجنوں طالبان عسکریت پسندوں کو افغانستان کی جیلوں سے بھی رہا کیا گیا ہے لیکن اس کے مثبت اثرات سامنے نہیں آئے ہیں۔

عوامی سطح پر ابھی تک طالبان کرزئی حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عسکریت پسندوں کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں سامنے آیا کہ وہ اپریل 2014ء میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ صدر کرزئی طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں گزشتہ ماہ پاکستان سے مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔

دوسری جانب نچلی سطح پر طالبان کے خلاف لڑنے والے سرکاری افسران کابل حکومت کی اس پالیسی سے ناراض نظر آتے ہیں۔ جنوبی صوبہ غزنی کے پولیس سربراہ سرور زاہد کہتے ہیں، ’’جن طالبان کو رہا کیا گیا تھا، وہ دوبارہ میدان جنگ میں ہمارے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہم ان کو گرفتار کرنے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں لیکن مرکزی حکومت مختلف بہانے بنا کر ان کو رہا کر رہی ہے۔‘‘ سرور زاہد کا کہنا تھا کہ صدر کرزئی کے حکم پر غزنی کی مرکزی جیل سے چالیس سے زائد طالبان کو رہا کیا گیا تھا اور اب یہ دوبارہ میدان جنگ میں لڑ رہے ہیں۔

غزنی کے نائب صوبائی گورنر محمد علی احمدی بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ طالبان کی رہائی سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ وہ کہتے ہیں، ’’بم دھماکے کرنے والوں، معصوم شہریوں اور سرکاری حکام کو قتل کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔‘‘

پاکستان سے افغان طالبان کی رہائی کے طریقہ کار سے متعلق شکایت کرتے ہوئے افغان امن کونسل کے سینئر رکن اسماعیل قاسم یار کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو پیشگی اطلاع اور افغان حکام کے حوالے کیے بغیر رہا کر دیا جاتا ہے، ’’ہم نہیں جانتے کہ رہائی کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے اور وہ کدھر جاتے ہیں۔ جب وہ (پاکستانی حکام) طالبان رہنماؤں کی رہائی کا فیصلہ کرتے ہیں تو صرف چند گھنٹے پہلے افغان حکومت کو مطلع کیا جاتا ہے۔‘‘

پاکستان نے حال ہی میں کہا تھا کہ جلد ہی افغان طالبان کے رہنما ملا عمر کے قریبی ساتھی اور طالبان کے سابق نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادر کو رہا کر دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں