پابندی کے باوجود ایرانی وزیرخارجہ "ٹیوٹر" استعمال کر رہے ہیں

"اورں کو نصیحت، خود میاں فضیحت"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلامی جمہوریہ ایران میں'مغرب نواز'سوشل میڈیا بالخصوص "ٹیوٹر" اور"فیس بک" کے استعمال پر پابندی عائد ہے، لیکن ایسے لگ رہا ہےکہ حکومتی عمال اس پابندی کے دائرے سے باہر ہیں۔ چند ہفتے پیشتر انکشاف ہوا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت کئی اہم حکومتی عہدیدار"فیس بک" کا استعمال کرتے ہیں۔

تازہ خبر یہ آئی ہے کہ "ممنوعہ ویب سائیٹس" قرار دیے جانے کے علی الرغم وزیر خارجہ جواد ظریف بھی"ٹیوٹر" اور "فیس بک" استعمال کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ گو کہ ایران کی حدود میں "ٹیوٹر" تک رسائی ممکن نہیں اور کوئی صارف ٹیوٹر ہونے والی "ٹویٹس" کا مطالعہ نہیں کرسکتا ہے، تاہم بیرون ملک رہنے والے افراد وزیر خارجہ جواد ظریف سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ اس وقت مسٹر ظریف کے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر ان کے 19 ہزار "فالورز" ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے فارسی زبان میں بنائے گئے" فیس بک پیج" پر ان کے فرینڈز کی تعداد ایک لاکھ 84 ہزار افراد سے متجاوز ہے۔

ایرانی حکام میں سماجی میڈیا کے مختلف ذرائع کے استعمال میں کھلا تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے، کچھ اسی نوعیت کا تضاد ایرانی حکام کے اسرائیل سے متعلق برتاؤ کے بارے میں بھی موجود ہے۔ تہران کے موجودہ وزیر خارجہ جواد ظریف اسرائیلیوں کے حوالے سے بھی کافی روشن خیال واقع ہوئے ہیں۔ ان کی روشن خیال کا اندازہ چند ہی روزقبل "ٹیوٹر" پر یہودیوں کو ان کے عبرانی سال نو کی مبارک باد کی صورت میں بھی دیکھا گیا۔ انہوں نے "ہولوکوسٹ" سے انکار کے بارے میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کے خیالات کو بھی مسترد کر دیا تھا۔

سابق امریکی رکن کانگریس نینسی پلوسی کی صاحبزادی کے ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزیرخارجہ نے جوابی "ٹیوٹس" میں لکھا ہے کہ "ایران نے کبھی بھی یہودیوں کے"ہولوکاسٹ" کے تصور کی نفی نہیں کی ہے۔ ایران میں جو شخص اس تصورکا منکر تھا وہ جا چکا۔ آپ کو سال نو کے موقع پرمیری جانب سے ھدیہ تبریک"۔ جواد ظریف کی طرح غیر قانونی طریقے سے اگرکوئی ایرانی اپنے ملک میں "ٹیوٹر" تک رسائی حاصل کرے تو وہ موصوف کی سرگرمیوں کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ جواد ظریف کے "فالورز" کی جانب سے ان کے ریمارکس پر ملے جلے تبصرے شامل ہیں مگر ٹویٹس کرنے والوں نے تہران حکام کو"اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت" کا مصداق قرار دیتے ہوئے جواد ظریف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر "ٹیوٹر" اور دیگر سوشل میڈیا پرپابندی ہے تو حکومت کو بھی اس کا پاس کرنا چاہیے اور پابندی نہیں ہے توعوام تک ان کی رسائی کیوں بند کی گئی ہے۔"ٹیوٹر" پراصلاح پسند رہ نما ڈاکٹر حسن روحانی کا بھی ایک اکاؤنٹ موجود ہے۔ بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ اس اکاؤنٹ کوصدر کے پرنسپل سیکرٹری آپریٹ کرتے ہیں۔ تاہم روحانی کے میڈیا ایڈوائزکا کہنا ہے کہ صدر کے نام سے بنائے گئے تمام اکاؤنٹ جعلی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں