.

ادارہ اقوام متحدہ کا غریب نواز سروے

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ادارہ اقوام متحدہ نے اپنے ماہرین سے کروائے گئے سروے کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا کی سات ارب سے زیادہ آبادی کی ضرورت کی خوراک کا ایک تہائی حصہ جس کا وزن ایک ارب تیس کروڑ ٹن اور مالیت ساڑھے سات ارب ڈالروں سے زیادہ ہوسکتی ہے، ہر سال ضائع ہو جاتا ہے جب کہ دنیا کے 87 کروڑ سے زیادہ انسان ہر روز بھوک کے عذاب سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

ہمارا فرض بنتا ہے کہ ادارہ اقوام متحدہ کی اس انسانی ہمدردی کے قابل قدر اور غریب نوازی کے واجب احترام جذبات کی قدر کرتے ہوئے گزارش کریں کہ وہ اپنے ماہرین سے یہ سروے یا تحقیق بھی کروائے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے کیساتھ شروع ہونے اور افغانستان تک پہنچنے والی اور یہاں سے شام پر آگ برسانے کے لئے روانہ ہونے کا ارادہ رکھنے والی تیسری عالمی جنگ میں گذشتہ دو عالمی جنگوں میں ہلاک ہونے والے انسانوں سے کتنے گنا زیادہ انسان قتل کئے جاچکے ہوں گے؟ اور اس تیسری عالمی جنگ کا مقصد امریکہ کی عالمی سپرمیسی کا رعب طاری کرنے کے علاوہ اور کیا ہوسکتا تھا؟

انسانی ہمدردی اور غریب نوازی کے مفاد میں ایک سروے اس موضوع پر بھی ہوسکتا ہے کہ امریکہ کی مشہور ”ٹریکل ڈاؤن اکانومی“ (چھلک جانے والی معیشت) کے تحت جس کو سابق امریکی صدر ریمنڈ ریگن کے حوالے سے ”ریگنامکس“ اور جارج ڈبلیو بش کے حوالے سے ”بش نامکس“ بھی کہا جاتا ہے دنیا کے کتنے فیصد انسانوں کو غربت کی انتہائی سطح سے بھی نیچے غرق کرنے کا قتل عام ہو چکا ہے اور دنیا کے ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جانے والے لوگوں کو دنیا کے امیر ترین لوگوں کے اعزاز کا مستحق بنایا ہے؟ کیا بائیں بازو کے ماہرین معیشت کا یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے کہ دنیا کے دس امیر ترین لوگوں کے پاس ”ٹریکل ڈاؤن اکانومی“ کے تحت اتنی زیادہ دولت جمع ہو چکی ہے کہ جس کے مناسب اور موزوں استعمال سے پوری دنیا کی مخلوق خدا کی غربت، جہالت ،بیماری اور بھوک کو ختم کیا جاسکتا ہے؟ اور شائد پاکستان کے اس امیر ترین لوگوں کی دولت بھی پاکستانیوں کے تمام مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرسکتی ہوگی۔

جن لوگوں کو امریکہ کی ٹریکل ڈاؤن اکانومی یعنی چھلک جانے والی معیشت سے آگاہی نہیں ہے۔ بتایا جاسکتا ہے کہ اس طرز معیشت یا اقتصادی نظام (بدنظمی) کے تحت امیر لوگوں کو اتنی زیادہ اقتصادی اور مالیاتی یا معاشی مراعات سے نواز دیا جاتا ہے کہ وہ امیر لوگوں کے ظرف سے زیادہ ہونے کی وجہ سے چھلک چھلک جائے اور چھلک جانے کی وجہ سے زمین پر کیڑوں مکوڑوں کی طرح رینگنے والے غریبوں کو بھی کھانے کے لئے کچھ مل جائے جیسے مشرقی معاشروں میں شادی بیاہ کے مواقع پر امیر گھرانوں کے غریب، مسکین اور محتاج رشتہ داروں کو بھی کھانے کے لئے کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے اور سال بھر گوشت کی پروٹین سے محروم رہنے والوں کو عید قربان پر قربانی کے گوشت کی کچھ بوٹیاں نصیب ہوسکتی ہیں۔

ادارہ اقوام متحدہ کے ماہرین اگر اس موضوع پر سروے یا تحقیق کی کوشش فرما سکیں تو یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی کریں کہ چھلک جانے والی اکانومی چھلک جانے کے بعد زمین پر رینگنے والے کیڑوں مکوڑوں جیسے غریب انسانوں تک پہنچنے میں اتنا عرصہ لیتی ہے؟ اور کیا انسانی زندگی اتنا عرصہ انتظار کرسکتی ہے؟ جہاں تک عام لوگوں کے تلخ تجربوں کا تعلق ہے وطن عزیز میں اول تو چھلک جانے والی اکانومی سے چھلک جانے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو پیالی کے نیچے پرچ رکھ کر چھلک جانے والی معیشت کو بھی امیر لوگ ہی چاٹ لیتے ہیں۔ ان کے شاپنگ پلازوں کے نیچے خوانچے، ریڑھیاں، چھابے اور لوٹ سیل کی دکانیں بھی ان کی اپنی ہی ہوتی ہیں چنانچہ کیڑوں مکوڑوں کے لئے کچھ نہیں بچتا۔ غریب رشتہ داروں کو کچھ نہیں ملتا۔ سال بھر پروٹین سے محروم رہنے والوں کو عید قربان کے مواقع پر بھی قربان ہونے والے جانوروں کی اوجھریاں ہی ملتی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.