.

لیبیا کا نائیجر سے الساعدی قذافی کی حوالگی کا دوبارہ مطالبہ

الساعدی پرتخریب کاروں کو"رقوم" فراہم کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی عبوری حکومت نے ایک مرتبہ پھر پڑوسی ملک نائیجیریا سے سابق مقتول لیڈر کرنل قذافی کے فرزند الساعدی قذافی کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔

طرابلس کا کہنا ہے کہ ملک سے فرار کے بعد بھی الساعدی لیبیا میں تخریب کاروں کی مدد کر رہا ہے۔ انٹیلی جنس اداورں کو معلومات ملی ہیں کہ وہ لیبیا میں افراتفری پھیلانے کے لیے شرپسندوں کی مالی مدد کر رہا ہے۔

دوسری جانب نائیجیرین حکام نے فوری طور پر طرابلس کے اس مطالبے کا کوئی جواب تو نہیں دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہاں سیاسی پناہ گزین قذافی خاندان کے کسی فرد کو لیبیا مخالف سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ لیبیا کی پارلیمنٹ [جنرل نیشنل کانگریس] کے ایک سرکردہ ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بتایا کہ طرابلس کی جانب سے الساعدی کی حوالگی کا مطالبہ نیشنل کانگریس کے چیئرمین نوری ابو سہمین نے نیجر وزیر خارجہ محمد بازوم سے ملاقات کے دوران کیا۔ محمد بازوم گذشتہ جمعرات کو ایک روزہ دورے پر طرابلس پہنچے تھے، جہاں انہوں نے لیبیا کی موجودہ عبوری حکومت کے اہم رہ نماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

ذرائع کے مطابق نیشنل کانگریس کے سربراہ نے نیجر وزیر خارجہ کو الساعدی القذافی کے حوالے سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کے بارے میں بھی مطلع کیا ہے، جن میں بتایا گیا ہے کہ الساعدی بیرون ملک رہ کر لیبیا میں تخریب کاری کے لیے رقوم فراہم کر رہا ہے۔اس موقع پر پڑوسی ملک نیجر کے وزیرخارجہ نے لیبی حکام کو یقین دلایا کہ ان کا ملک الساعدی القذافی سمیت سابق دور کے کسی بھی شخص کو اپنی سرزمین پرلیبیا مخالف سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ مارچ کو بھی لیبیا کی جانب سے مقتول صدر کرنل قذافی کے مفرور فرزند الساعدی القذافی اور داخلی سلامتی سے متعلق ادارے کے سابق عہدیدار عبداللہ منصور کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا تاہم نیجر حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پرقذافی خاندان کو پناہ دے رکھی ہے۔ وہ انہیں لیبیا کے حوالے نہیں کریں گے تاہم اپنی سرزمین کو کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال بھی نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اڑتیس سالہ الساعدی القذافی ستمبر2011ء کو پڑوسی ملک نائیجیریا فرار ہوگئے تھے، جب ان کے والد کے خلاف عوامی بغاوت کی تحریک اپنے بام عروج پر تھی اور امریکا کی قیادت میں لیبیا پر حملہ کیا جا چکا تھا۔ کرنل قذافی سے دوستانہ تعلقات کی بناء پر نیجر نے ان کے خاندان کے افراد کو سیاسی پناہ دے دی تھی، جس کےبعد لیبیا کی انقلابی حکومت ان کی حوالگی کا متعدد مرتبہ مطالبہ کرچکی ہے۔ الساعدی القذافی کی گرفتاری کے لیے انٹرپول نے بھی "ریڈ وارنٹ" جاری کر رکھے ہیں۔