ازبک حسینہ انتظامیہ کو چکما دے کر عالمی مقابلہ حسن میں جا پہنچی

مسلم اکثریتی ریاست میں مقابلہ حسن منعقد نہیں ہوتا: وزیر ثقافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مسلم اکثریتی ملک ازبکستان کی اٹھارہ سالہ دوشیزہ رحیمہ جنیوہ کو حسینہ عالم بننے کا شوق چرایا تو اس نے انڈونیشیا میں ہونے والے 'مس ورلڈ مقابلہ حسن' کو اپنی منزل قرار دیا۔

واضح رہے کہ اس مقابلے میں شرکت کی خواہشمند دوشیزائیں اپنے ملکوں سے 'ملکہ حسن' کا ٹائیٹل جیتنے کے بعد اس عالمی مقابلے میں شرکت کی اہل سمجھی جاتی ہیں لیکن ازبک حسینہ نے کسی مقامی 'اعزاز' کو کوالیفائی کئے بغیر ہی عالمی مقابلہ حسن کی دوڑ میں شام ہو کر منتظمین سمیت پوری دنیا کو حیران کر دیا۔

برطانوی اخبار 'ڈیلی میل' کے مطابق مسلم اکثریتی ازبکستان میں قومی سطح پر مقابلہ حسن کا انعقاد نہیں کیا جاتا۔ ازبکستان میں کھیلوں اور ثقافت کی وزارت اور خواتین کی قومی کمیٹی کے حکام نے 'دی میل' سے بات کرتے ہوئے رحیمہ کو "ٹھگ" قرار دیا ہے۔

اس بات کا تعین کرنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے کہ ملکہ حسن بننے کی خواہش مند ازبک دوشیزہ عالمی مقابلہ حسن کی کوالیفائنگ شرائط پوری کرتے ہوئے کیسے عالمی مقابلے تک پہنچیں۔ رحیمہ کا نام عالمی مقابلہ حسن کی ویب سائٹ پر 'مس ازبکستان' کے ٹائیٹل کے ساتھ مقابلے کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہے، اس کا تعارف ذوق مطالعہ رکھنے تاشقند کی باسی کے طور پر کرایا گیا ہے۔

عالمی مقابلہ حسن کی ویب سائٹ پر رحیمہ کی مقابلے میں شریک دیگر دوشیزاؤں کے ہمراہ تصاویر بھی موجود ہیں۔ تاشقند سے تعلق رکھنے والی ماڈلنگ ایجنسی کے ایک نمائندے نے "ڈیلی میل" کو بتایا کہ رحیمہ نے مقابلے میں شرکت کے لئے ازبکستان میں کسی کوالیفائنگ مقابلے میں شرکت نہیں کی۔

ماڈلنگ ایجنسی کے نمائندے کے بقول اگر ازبکستان سے عالمی مقابلہ حسن میں شرکت مقصود ہوتی تو میں آپ کو یقین سے کہ سکتا ہوں کہ اس کے لئے رحیمہ سے زیادہ خوبصورت دوشیزہ کا چناؤ کیا جا سکتا تھا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ رحیمہ نے جھوٹ کی بنیاد پر شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں