شامی حمایت کا انجام: عربوں میں ایرانی مخالفت میں اضافہ

شام کی حیثیت ایرانی شہر کی ہے: ایرانی عہدہدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی طاقتور فوج پاسداران انقلاب کے زیرانتظام نیوی کے سابق چیف جنرل حسین علائی نے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت عالم عرب میں ایران کے خلاف نفرت میں اضافے کا موجب بنی ہے، جس کے نتیجے میں عربوں میں ایرانی اثرو نفوذ بھی کم ہو گیا ہے۔

فارسی زبان میں شائع ہونے والے ایرانی اخبار"شرق" کی رپورٹ کے مطابق جنرل [ریٹائرڈ] حسین علائی نے تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے یہ بات افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہی ہے کہ جب سے شام میں بحران شروع ہوا ہے بعض عرب اقوام میں ایران مخالف فضاء بھی اس کے ساتھ بننا شروع ہو گئی تھی۔ وقت گذرنے کے ساتھ اس نفرت میں مزید اضافہ ہوا ہے"۔

جنرل علائی کا کہنا تھا کہ عرب اقوام یہ سوال کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران تو عوامی حقوق کا علمبردار ہے لیکن شام میں ایک استبدادی حکومت کو بچانے کے لیے اس کی کیوں کر حمایت کر رہا ہے؟ عرب اقوام میں یہ سوال پچھلے تین سال میں اتنی کثرت کے ساتھ پوچھا گیا ہے جس کے نتیجے میں اب عربوں میں ایرانی اثرو نفوذ بہت کم ہو گیا ہے؟

ایرانی بحریہ کے سابق چیف نے تسلیم کیا کہ ان کے ملک کے بیشتر اعلٰی عہدیدار شام کو ایران کا ایک شہر اور ضلع سمجھتے ہیں۔ بشارالاسد کی حمایت دراصل شام کی حمایت ہے جو آخری لمحے تک جاری رکھی جائے گی۔

خیال رہے کہ شامی اپوزیشن جماعتیں ایران پر بشارالاسد کی حامی فوج اور ملیشیا کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ خود ایران کے کئی عہدیداروں نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ دمشق کی مدد کر رہے ہیں۔ ایران میں بشارالاسد کی مدد کی مخالفت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے لیکن حکومتی جبر کے سامنے وہ کچھ کہنے سے گریزاں ہیں۔

ان میں سابق صدر اور گارڈین کونسل کے چیئرمین علی اکبر ہاشمی رفسنجانی شام کی لا محدود امداد کے مخالفین میں سب سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اگست میںشام میں ہونے والے کیمیائی حملوں کی نہ صرف شدید مذمت کی تھی بلکہ ان حملوں کی ذمہ داری صدر بشار الاسد کی وفادار فوج پرعائد کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں