القاعدہ نے سات مغربی یرغمالیوں کی ویڈیو جاری کردی

فرانسیسی وزارت خارجہ نے ویڈیو کو مصدقہ اور قابل اعتبار قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی جنگجو تنظیم القاعدہ کی شمالی افریقہ میں شاخ نے تین سال قبل یرغمال بنائے گئے چار فرانسیسیوں سمیت سات مغربی باشندوں کی ایک ویڈیو جاری کی ہے اور فرانس کی وزارت خارجہ نے اس کو قابل اعتبار قرار دیا ہے۔

ان سات یرغمالیوں میں چار فرانسیسی ہیں۔ انھیں ٹھیک تین سال قبل 16 ستمبر 2010ء کو شمالی نیجر میں واقع شہر آرلیط سے یورینیم کی ایک تنصیب سے اغوا کیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ ایک ڈچ، ایک سویڈش اور ایک جنوبی افریقی باشندہ بھی ان میں شامل ہے۔ ان تینوں کو نومبر 2011ء میں مالی کے شمالی شہر ٹمبکٹو سے القاعدہ کے جنگجوؤں نے اغوا کر لیا تھا۔

فرانسیسی وزارت کے ترجمان فلپ لالیوٹ نے اس ویڈیو کو قابل اعتبار اور مصدقہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے یہ تو اندازہ ہوا کہ فرانسیسی اور دوسرے یرغمالی ابھی تک زندہ ہیں۔

آٹھ منٹ اور بیالیس سیکنڈز پر مشتمل اس ویڈیو کو سوموار کو موریتانیہ کی خبررساں ایجنسی اے این آئی نے جاری کیا ہے۔ اس میں فرانسیسی شہری ڈینیل لاریب یہ کہہ کر اپنا تعارف کرارہا ہے کہ وہ یرغمالی فرانسیسی گروپ کا سربراہ ہے اور انھیں اسلامی مغرب میں القاعدہ نے اغوا کیا تھا۔

اے این آئی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مسٹر ڈینیل کی ویڈیو میں گفتگو 27 جون کو ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کی صحت بہتر ہے۔ البتہ یہ واضح نہیں ہوا کہ ان ساتوں کی یہ ویڈیو ایک ہی جگہ پر بنائی گئی تھی یا انھیں الگ الگ فلمایا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں لاریب کے ساتھیوں پائیرے لی گراند، تھائیری دول اور مارک فیرٹ کے علاوہ جنوبی افریقہ کے شہری اسٹیفن میلکم، ڈچ سژاک رژیک اور سویڈ جان گستافسن کے بیانات ہیں اور وہ بظاہر صحت مند نظرآرہے ہیں۔

اسلامی مغرب میں القاعدہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے اس وقت آٹھ یورپی باشندوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ان میں پانچ فرانسیسی شہری ہیں۔ فرانسیسی پراسیکیوٹر کی اطلاع کے مطابق ایک اور یرغمالی فرانسیسی فلپ وردان کی اسی سال لاش ملی تھی۔ اس کو مالی سے 2011ء میں اغوا کیا گیا تھا اور بعد میں جنگجوؤں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں