ایرانی صدرحسن روحانی کو امریکا سے براہ راست مذاکرات کا ٹاسک مل گیا

شام پر حملہ تہران ۔ واشنگٹن قربت کا آخری موقع ضائع کردے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق جوہری مذاکرات کار حسین موسویان نے انکشاف کیا ہے کہ سپریم لیڈر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای نے صدر حسن روحانی کو امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فارسی زبان کے"ایران ڈپلومیٹک" ویب پورٹل پر شائع مضمون میں مسٹر موسویان نے شام میں گذشتہ ماہ کیمیائی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور ایران کی جانب سے دمشق کے خلاف فوجی کارروائی روکے جانے کی کوششوں پر روشنی ڈالی ہے۔

سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے مقرب سمجھے جانے والے مسٹر موسویان کا کہنا ہے کہ "قائد معظم" [آیت اللہ خامنہ ای] نے صدر جمہوریہ حسن روحانی کو امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے اور طویل عرصے پر پھیلی دشمنی ختم کرنے ٹاسک دیا ہے۔ خامنہ ای کا خیال ہے کہ اگر موجودہ حالات میں امریکا نے شام پرحملہ کیا تو تہران۔ واشنگٹن مذاکرات نہ صرف التواء کا شکار ہوں گے بلکہ شام پرحملہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گا اور مفاہمت کی تمام امیدیں ختم ہو جائیں گی۔

حسین موسویان نے اپنے مضمون میں امریکا کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ اگر واشنگٹن، شام کے خلاف فوجی کارروائی کرتا ہے یہ اس کی ایک بڑی غلطی ہوگی کیونکہ اس غلطی کے نتیجے میں وہ ایران میں حسن روحانی جیسے معتدل صدر سے بات چیت سے محروم اور ایران کے جوہری تنازع کے حل میں ناکام ہوجائے گا۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ "وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو تلف کرنےکے بارے میں امریکا اور ایران دونوں میں مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔ دونوں ملک ایسے ہتھیاروں کے استعمال کو سنگین جرم قرار دیتے ہیں۔ ایران اس طرح کے ہتھیاروں کا سابق عراقی صدر صدام حسین کے دور آٹھ سال تک نشانہ بنتا رہا ہے۔ ایران یہ چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو تباہ کن اسلحے سے پاک خطہ قرار دینے کے لیے عالمی برادری سے تعاون کرے لیکن اس میدان میں صرف ایران پردباؤ ڈالنا کافی نہیں ہوگا۔ ان کا اشارہ اسرائیل کی جانب تھا جس کے پاس مبینہ طورپر بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود ہیں۔"

خیال رہے کہ حسین موسویان کا یہ مضمون جس میں صدر حسن روحانی کو امریکا سے مذاکرات کا ٹاسک سونپے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ ایرانی اور امریکی صدور کے درمیان خفیہ مراسلت بھی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں