مس امریکا کو سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ حملوں کا سامنا

ہندوستانی نژاد حسینہ پر ٹویٹر پرعرب اور دہشت گرد ہونے کے الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی نژاد امریکی حسینہ نے امریکا میں منعقدہ قومی مقابلہ حسن کیا جیتا ہے کہ اس کے بعد ان کے خلاف رکیک حملے شروع ہوگئے ہیں اور سوشل میڈیا پران کو القاعدہ کی ساتھی تک قرار دیا جارہا ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر نئی مس امریکا نینا دولوری کے خلاف منفی اور رکیک جملوں پر مبنی پیغامات کا تبادلہ کیا جارہا ہے اور بہت سے صارف لکھاریوں نے ان کے انتخاب پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور بعض نے یہ دعویٰ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ وہ عرب نژاد ہیں۔

ٹویٹر پر ایک صاحب نے لکھا: ''یہ مس امریکا ہے، مس غیرملکی نہیں''۔ بعض نے دولوری کے جنگجو گروپ القاعدہ کے ساتھ تعلق پر سوالات اٹھائے ہیں: ''مس امریکا یا مس القاعدہ''۔بعض نے ان کا تعلق 9/11 سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک نے لکھا: ''9/11 کو گزرے ابھی چار دن ہی گزرے ہیں اور وہ مس امریکا منتخب ہوگئی ہیں''۔

اب یہ اندازہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ ان امریکیوں نے جان بوجھ کر اس طرح کی درفنطنیاں چھوڑی ہیں یا ان کا عمومی علم ہی اتنا ہے کہ وہ ایک بھارتی نژاد کو بھی عرب سمجھ رہے ہیں کیونکہ امریکیوں سے کچھ بھی بعید نہیں اور قرین قیاس یہی ہے کہ وہ بھارت کو بھی عرب ملک سمجھ رہے ہوں گے۔

امریکی اسلامی تعلقات کونسل کے قومی کمیونیکشن ڈائریکٹر ابراہیم ہوپر نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر لوگ انھیں غلط طور پر مسلمان قرار دے رہے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جو مسلمان مخالف نفرت پھیلانے میں پیش پیش ہیں اور وہ کسی کو بھی مسلمان قراردے کر اس کے خلاف نفرت پھیلا سکتے ہیں''۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس شخصیت (مس امریکا) کے خلاف کسی بھی طرح کے نسل پرستانہ حملوں کے خلاف ہیں۔

مس دولوری نے انٹرنیٹ پر پھیلائی جانے والی ان تمام منفی تبصروں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ''میں ان تمام باتوں سے بہت بلند ہوں اور سب سے پہلے امریکی ہوں''۔ نئی مس امریکا کے دفاع میں بھی بہت سے لکھاری سامنے آئے ہیں اور انھوں نے نسل پرستانہ حملے کرنے والوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

عاشقی نامی ایک صارف نے ٹویٹر پر لکھا کہ: '' امریکا۔۔۔ نسل پرستوں سے بھرپور ملک ہے''۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں کہ مس امریکا کا مقابلہ جیتنے والی حسینہ کے خلاف اس طرح کے منفی ریمارکس دیے گئے ہیں۔ البتہ اس مرتبہ مس امریکا کے نام سے ٹویٹر اکاؤنٹس پر تبصرے کرنے والوں کی تعداد دس کروڑ سے تجاوز کرچکی تھی۔

2010ء میں جب لبنانی نژاد حسینہ ریما فقیہ مس امریکا منتخب ہوئی تھیں تو انھیں بھی اسی طرح کے منفی تبصروں اور نسل پرستانہ رکیک جملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ پہلی مسلمان اور عرب نژاد امریکی تھیں جن کے سر پرمس امریکا کا تاج رکھا گیا تھا۔ بعض تبصرہ نگاروں نے لبنان کے جنگجو گروپ حزب اللہ سے بھی ان کا تعلق جوڑنے سے گریزنہیں کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں