پاکستان بچانے کی کوشش، جماعت اسلامی کے رہنما کو سزائے موت

نئی عدالتی تاریخ ،سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو پیچھے چھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے ملک میں قائم متنازعہ جنگی جرائم کی عدالت کی طرف سے دی گئی عمر قید کی سزا کو بڑھاتے ہوئے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما کو پھانسی دینے کا حکم دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما 65 سالہ عبدالقدیر مولا ان چار اہم رہنماوں میں سے ایک ہیں جنہیں اب تک متنازعہ جنگی جرائم کی عدالت نے سزا سنائی ہے۔

عبدالقدیر مولا وہ پہلے اسلام پسند سیاستدان ہیں جن کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے کثرت رائے سے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے متنازعہ انٹر نیشنل کرائم کورٹ کے فیصلے سے بھی آگے بڑھ کر سزا میں اضافہ کر دیا ہے۔

عبدالقدیر مولا کے وکیل تاج الاسلام کے مطابق ''جنوبی ایشیاَ کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی اعلی عدالت نے ٹرائل کورٹ کی سزا میں اضافہ کیا ہے ، سپریم کورٹ نے ایسا فیصلہ دے کر حیران کر دیا ہے۔''

ماہ فروری میں جب عبدالقدیر مولا کو بنگلہ کی متنازعہ انٹر نیشنل کرائم کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تو وزیر اعظم حسینہ واجد کے حامیوں نے سخت احتجاج کیا تھا کہ عدالت نے انہیں سخت سزاکیوں نہیں دی ہے۔ سیکولر طبقوں کےاس احتجاج کے نتیجے میں ایک سو افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما پر حسینہ شیخ حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے پاک فوج کا ساتھ دیتے ہوئے بنگلہ دیش بنانے کی مخالفت کی اور یوں بنگالیوں کے قتل کے ذمہ دار بنے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر پروفیسر غلام اعظم ، مولانا مطیع الرحمان نظامی اور مولانا سیدی کو بھی انہی الزامات کے تحت سزا سنائی جا چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں