اردنی شاہ کا چینی صدر سے شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال

بیجنگ ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن، استحکام اور خوشحالی کے طریقوں پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے چینی صدر ژی جین پنگ سے شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

دونوں لیڈروں کے درمیان بدھ کو بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں ملاقات ہوئی ہے۔ اس موقع پر شاہ عبداللہ نے چین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ٹیم رکن اور اردن اور مشرق وسطیٰ کا دوست قراردیا۔ دونوں لیڈروں نے شامی تنازعے کے حل اور خطے میں قیام امن، استحکام اور خوشحالی کے طریقوں اور ذرائع پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس موقع پر چینی صدر ژی جین پنگ نے علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے لیے شاہ عبداللہ دوم کی کوششوں کو سراہا۔ انھوں نے اردنی شاہ سے دوطرفہ تعلقات کے علاوہ اہم علاقائی اورعالمی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اردن امریکا کا اہم اتحادی ملک ہے۔ وہ شامی بحران کے سیاسی حل کا حامی ہے اور خانہ جنگی کا شکار ملک میں فوجی مداخلت کی مخالفت کررہا ہے۔ وہ یہ واضح کرچکا ہے کہ اپنے علاقے کو شام کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

شاہ عبداللہ دوم کی چینی صدر سے اس ملاقات سے ایک روز پہلے ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے نمائندوں نے نیویارک میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے فرانس کی مجوزہ قرارداد پر غور کیا ہے۔

سفارت کاروں کے مطابق فرانسیسی قرارداد کے مسودے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر صدر بشارالاسد امریکا اور روس کے درمیان گذشتہ ہفتے کے روز جنیوا میں طے پائے سمجھوتے کے تحت اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ نہیں کرتے تو پھر ان کے خلاف اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت کارروائی کی جائے۔

برطانیہ، فرانس اور امریکا شام کے خلاف سخت قرارداد کے حق میں ہیں لیکن روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے باب سات کے تحت قرارداد کی مخالفت کی ہے۔ واضح رہے کہ چین اور روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ماضی میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف مغربی ممالک کی پیش کردہ تین قراردادوں کو ویٹو کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں