تھائی لینڈ میں دھماکا خیز مواد رکھنے پر لبنانی کو قید کی سزا

عدالت نے سویڈش شہری کو ایمونیم نائٹریٹ رکھنے کے الزام میں قصوروار قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تھائی لینڈ کی ایک عدالت نے لبنانی نژاد سویڈش شہری کو دارالحکومت بنکاک کے نواح میں ایک گودام میں بم کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد ذخیرہ کرنے کے الزام میں قصوروار قرار دے کر قید کی سزا سنادی ہے۔

انچاس سالہ عطرس حسین کو بنکاک کے مرکزی ہوائی اڈے سے 12 جنوری 2012ء کو اسرائیلی پولیس کی اطلاع پر گرفتار کیا گیا تھا۔اسرائیلی پولیس نے اس کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ تھائی لینڈ میں دہشت گردی کی کارروائی کرنے والا تھا۔بعد میں اس کی نشاندہی پر بنکاک کے نواح میں واقع ایک گودام سے 28 سو کلو گرام مائع ایمونیم نائٹریٹ اور چار ہزار کلوگرام یوریا کھاد برآمد ہوئی تھی۔یہ دونوں چیزیں بم کی تیاری میں بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔

تھائی حکام نے اس پر لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلق کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ بنکاک میں جمع کی جانے والی ان اشیاء کو بعد میں کسی اور جگہ منتقل کرنا چاہتا تھا۔

تھائی عدالت نے ملزم کو ایمونیم نائٹریٹ کو غیر قانونی طور پر اپنے قبضے میں رکھنے کے الزام میں قصوروار قرار دے کر دوسال آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے کیونکہ تھائی لینڈ کے ہتھیاروں کے ایکٹ کے تحت یہ ایک ممنوعہ چیز ہے اور اس کا رکھنا غیر قانونی اور مستوجب سزا ہے۔تاہم عدالت نے ملزم کو یوریا کھاد رکھنے کے الزام میں قصوروار نہیں قراردیا کیونکہ یہ غیر قانونی مواد نہیں ہے۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد عطرس حسین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے سے خوش ہیں۔اس سے پہلے عدالت میں انھوں نے بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا۔ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اس سزا کے خلاف اپیل دائرکریں گے۔

ملزم نے ایران نواز حزب اللہ سے بھی کسی قسم کے تعلق کی تردید کی اور کہا کہ انھیں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ایماء پر اس کیس میں ماخوذ قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تھائی لینڈ سے مختلف اشیاء کی برآمد کا کاروبار کرتے ہیں اور وہ لبنان سمیت مختلف ممالک کو یہ اشیاء بھیجتے تھے۔ ان میں پنکھے، فوٹو کاپی مشین کے کاغذات اور منجمد جیل شامل ہیں جو درد کے ازالے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

انھوں نے ایک تھائی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ایمونیم پیکٹوں میں موجود تھی لیکن ہم نے کبھی کھاد کا کاروبار نہیں کیا اور یہ ممکنہ طور پر کسی اور نے وہاں رکھی ہوگی اور غالباً موساد ہی نے یہ کارنامہ انجام دیا ہوگا۔

عطرس حسین نے بتایا کہ وہ 1989ء میں سویڈن چلے گئے تھے اور پانچ سال کے بعد وہ سویڈن کے شہری بن گئے تھے۔وہ وہاں ہیئر ڈریسر کے طور پر کام کرتے رہے تَھے اور 2005ء میں لبنان لوٹ آئے تھے۔

تھائی پولیس کا کہنا ہے کہ عطرس حسین کا 14 فروری 2012ء کو بنکاک میں پیش آئے بم سازش کیس سے کوئی تعلق نہیں۔اس سازش کا ایرانی جس گھر میں مقیم تھے،وہاں اچانک بم دھماکے کے بعد پتا چلا تھا۔تھائی لینڈ کی ایک عدالت نے گذشتہ ماہ ایک ایرانی کو دھماکا خیز مواد رکھنے کے الزام میں عمرقید اور اس کے ساتھی کو پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ تھائی حکام کا کہنا تھا کہ ایرانی بنکاک میں اسرائیلی سفارت کاروں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں