دو اھوازی عرب باشندوں کو ایرانی عدالت سے سزائے موت

ملزمان پر تیل پائپ لائن کو نشانہ بنانے کا الزام ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی ایک انقلاب عدالت نے عرب اکثریتی صوبہ "اھواز" سے تعلق رکھنے والے دو عرب باشندوں کو تیل پائپ لائن پرحملوں کی پاداش میں پھانسی کی سزا جبکہ ان کے تیسرے ساتھی کو پچیس سال قید کا حکم دیا ہے۔ ایرانی عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزاء پرانسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے سخت احتجاج کیا ہے اور فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صوبہ اہوازمیں قائم انقلاب عدالت کے جج باقر موسوی نے گذشتہ روز فیصلہ سناتے ہوئے"شوش" شہر کی تیل پائپ لائن پر حملوں کے ملزمان علی جبیشاط الکعبی اور سماجی کارکن سید یاسین موسوی کو موت کی سزا جبکہ ان کے ایک ساتھی سلمان جایان الکعبی کو پچیس سال قید بامشقت کی سزا کا حکم دیا ہے۔

انسانی حقوق کے حلقوں نے ایرانی عدالت کے فیصلے کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو اپنی مرضی کا وکیل مقرر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور صرف سرکاری پراسیکیوٹر کی فرمائش پر عرب باشندوں کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پھانسی پانے والے دونوں ملزمان کے اہل خانہ کو دو ہفتے قبل تہران حکام کی جانب سے سزاؤں کے بارے میں مطلع کردیا گیا تھا تاہم اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ منگل کے روز اھواز سے انسانی حقوق کے گروپوں نے سزا یافتہ شہریوں کے لواحقین کے حوالے سے بتایا کہ حکام نے دونوں ملزمان کو سوموار کے روز اہواز سے دزفول شہر منتقل کر دیا تھا، جہاں ان کی پھانسی کی سزا پرعمل درآمد کیا جائے گا۔

دو ماہ قبل انگریزی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ایران کے سرکاری سیٹلائیٹ ٹیلی ویژن چینل "پریس ٹی وی" نے "شوش" شہر میں گذشتہ سال تیل پائپ لائن پر حملوں کے ملزمان کے اقبالی بیانات پر مشتمل ایک رپورٹ نشرکی تھی۔ رپورٹ میں تینوں ملزمان کو پائپ لائن پرحملوں کا اعتراف کرتے دکھایا گیا تھا، تاہم بعد ازاں عدالت میں پیشی کے موقع پر تینوں ملزمان نے حملوں میں ملوث ہونے سے صاف انکار کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اعترافی بیانات ان پر وحشیانہ تشدد کے ذریعے لیے گئے تھے۔ وہ ملک میں ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ میں مصروف رہے ہیں ان کا گیس پائپ لائن حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ تشدد پر یقین رکھتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے حسب معمول ایرانی عدالت کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔ اہواز شہر اور ملک کے دوسرے علاقوں میں سرگرم گروپوں نے انقلاب عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملزمان کی سزا پرعمل درآمد فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کرے۔

خیال رہے کہ ایران قیدیوں کو دی جانے والی سزاؤں کے باب میں ماضی میں بھی انسانی حقوق کے حلقوں میں ہدف تنقید رہا ہے۔ ملک میں معمولی نوعیت کے جرائم کی بھی سخت ترین سزائیں موجود ہیں۔ بالخصوص صوبہ اھواز کے عرب باشندوں کے ساتھ تہران سرکار کا سلوک ماضی میں بھی متنازعہ رہا ہے، جس پرایرانی حکام کو سخت عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں