مغرب کے ساتھ ''دلیرانہ نرم روی'' کا مظاہرہ کیا جائے: خامنہ ای

بین الاقوامی تعلقات میں لچکدار اور منطقی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو مغرب کے ساتھ جوہری پروگرام کے معاملے پر''دلیرانہ نرم روی'' اختیار کرنی چاہیے اور بین الاقوامی تعلقات میں لچکدار، درست اور منطقی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

علی خامنہ ای نے یہ بات پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران تقریر میں کہی ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ ''وہ درست سفارتی اقدامات کے مخالف نہیں ہیں''۔ سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ''لچکداری ظاہر کرنے اور داؤ پیچ تبدیل کرنے والے پہلوان (ریسلر) کو اپنے حقیقی مقاصد نہیں بھولنے چاہئیں''۔

ایرانی رہبر کا یہ بیان اصلاح پسند صدر حسن روحانی کے انتخاب اور اقتدار سنبھالنے کے ایک ماہ کے بعد سامنے آیا ہے۔ حسن روحانی نے اپنے انتخاب کے بعد کہا تھا کہ وہ مغرب کے ساتھ لچکدار حکمت عملی اپنائیں گے۔

ایران کے جوہری مذاکرات کاروں کے سابق ترجمان حسین موسویان نے ''اردن ٹائمز'' میں سوموار کو لکھا ہے کہ ''آیت اللہ علی خامنہ ای نے صدر حسن روحانی کو امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے''۔

انھوں نے لکھا کہ ''سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے صدر حسن روحانی کی نئی انتظامیہ کو امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے اجازت نامہ جاری کردیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی کا خاتمہ کیا جاسکے''۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ''اگر ان حالات میں امریکا شام پر حملہ کردیتا ہے تو پھر امریکا اور ایران کے درمیان از سر نو سلسلہ جنبانی شروع کرنے کے لیے تمام امیدیں معدوم ہوجائیں گی اور ان کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کئی برس لگ سکتے ہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں