.

امریکا میں فلک بوس ایرانی عمارت کی ضبطی کی تیاری

عمارت کے معاملات دیکھنے والی کمپنیوں نے رقم ایران منتقل کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں مبینہ طور پر ایران کے زیر ملکیت اور زیر تصرف 36 منزلہ فلک بوس عمارت کی قرقی کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ بلند و بالا عمارت ایران کے ملی بنک کے توسط سے ایرانی حکومت کے کنٹرول میں بتائی گئی ہے۔

انتہائی زیادہ مالیت کی حامل اس عمارت کی قرقی کے بعد اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ایرانی دہشت گردی کے متاثرین میں تقسیم کی جاَئے گی، امریکی عدالت نے بھی اس سلسلے میں امریکی انتظامیہ اور امریکی محکمہ انصاف کا موقف تسلیم کرتے ہوئے اس عمارت کی قرقی کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے پراسیکیوٹر پریٹ بہرارا کے مطابق مین ہٹن کے وسط میں ایک فلک بوس عمارت خفیہ طور پر ایرانی حکومت کی ملکیت ہے۔ امریکی محکمہ انصاف اس کی قرقی کی تیاری مکمل کیے ہوئَے ہے، تاہم اس کی قرقی عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کے فیصلے کے بعد ہو گی۔

امریکی محکمہ انصاف کے اس موقف کی عدالت نے اپنے فیصلے میں تائیِد کی ہے کہ نیویارک شہر کی ایونیو پانچ پر قائم 36 منزلہ عمارت کے مالکان نے ایران پر عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کے علاوہ امریکا کے منی لانڈرنگ سے متعلق قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

عدالت میں امریکی محکمہ انصاف نے درخواست دائر کی تھی کہ ''عمارت کی مبینہ مالک علاوی فاونڈیشن اور آسا کارپوریشن نے اپنی آمدنی اور دیگر رقومات ایران کی سرکاری ملکیت میں چلنے والے ملی بنک میں منتقل کی ہے۔ علاوی فاونڈیشن ایران کی مدد کے لیے ایک خیراتی تنظیم بھی چلاتی اور اس عمارت کے انتظامی معاملات کو ایران کے لیے دیکھتی ہے۔''

واضح رہے یہ عمارت 1970 میں شاہ ایران کے دور میں غیر منافع بخش رفاہی مقاصد کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اسے چلانے کے لیے ایران کے ملی بنک نے سرمایہ فراہم کیا تھا ۔ 1979 کے بعد ایران کی نئی حکومت نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اب تک یہ ایرانی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔