.

اوباما نے خط میں تعمیری اور مثبت رویہ اخیتار کیا: حسن روحانی

ایرانی صدر کا امریکی نیوز چینل کو صدارتی محل سے انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما کی طرف سے ملنے والے حالیہ خط میں ’تعمیری اور مثبت‘ رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ مسٹر روحانی نے ان خطوط کے ذریعے اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ ہونے والی پیغام رسانی کو چھوٹی مگر اہم پیشرفت قرار دیا۔

دارلحکومت تہران کے صدارتی محل سے "این بی سی" کو انٹرویو دیتے ہوئے روحانی نے مزید کہا کہ ایرانی صدر کی طرف سے یہ بیانات ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں، جب وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہو رہے ہیں۔ اس اجلاس میں اصلاحات پسند مذہبی رہنما روحانی کا خطاب انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ ان کے صدارتی منصب پر فائز ہونے کے بعد سے ایرانی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیوں کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

بدھ کے روز ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی چینل "این بی سی نیوز" کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت کے پاس مکمل اتھارٹی ہے کہ وہ مغربی ممالک کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کر سکے۔

"این بی سی" نے روحانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کی حکومت کسی بھی حالت میں جوہری ہتھیار نہیں بنائے گی۔ لیکن مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ تہران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے ذریعے ایٹمی ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی حکام ماضی میں بھی ایسے الزامات مسترد کرتے رہے ہیں تاہم وہ اس حوالے سے مغربی ممالک کے خدشات دور نہیں کر سکے۔

اگست میں ایرانی صدر کا عہدہ سنبھالنے والے روحانی نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق عالمی برادری کے ساتھ جاری مذاکرات کے سلسلے میں انہیں مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام اور دیگر اہم معاملات کے بارے میں حتمی فیصلے کرنے کا اختیار ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہی حاصل ہے۔

مبصرین کے بقول خامنہ ای کی طرف سے تہران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق جاری مذاکرات کے حوالے سے رواں ہفتے ہی لچک کا مظاہرہ کرنا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ بھی اس معاملے میں مغربی ممالک کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچنا چاہتے ہیں۔ خامنہ ای نے کہا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا عمل اسلامی اقدار کے منافی ہو گا۔