.

ایران میں انسانی حقوق کی سرگرم رکن نسرین ستودہ رہا

ستودہ کے ہمراہ 11 دوسرے سیاسی قیدی بھی رہا کئے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکام نے انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کا سخاروف انعام پانے والی نسرین ستودہ سمیت کم از کم گیارہ سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ تقریبا تین سال قید میں رہنے والی نسرین ستودہ نے اپنی غیر متوقع رہائی کے بعد نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اچھی حالت میں ہیں اور انسانی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

نسرین ستودہ کو جنوری 2011ء میں قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں کے باعث 11 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ساتھ ہی اس خاتون وکیل پر یہ پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی کہ وہ بیس برس تک پیشہ ور وکیل کے طور پر کام نہیں کر سکتیں۔ جن دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا، ان میں 2009ء کے حکومت مخالف مظاہروں کے کئی اہم شرکاء بھی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک سابق نائب وزیر خارجہ محسن امین زادہ، اصلاحات پسند سیاستدان فیض اللہ عرب سرخی اور اصلاحات پسند صحافی امر آبادی قابل ذکر نام ہیں۔

یورپی یونین، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے دباؤ پر جنوری میں ایرانی حکام نے ستودہ کو عارضی طور پر رہا بھی کر دیا تھا۔ بدھ کے دن اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ستودہ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ اب ہمیشہ کے لیے آزاد کر دی گئی ہیں، ’’جس پولیس افسر نے مجھے میرے گھر پہنچایا، اس نے کہا کہ میں ہمیشہ کے لیے رہا کر دی گئی ہوں اور مجھے دوبارہ جیل نہیں جانا ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گی، تو دو بچوں کی ماں ستودہ نے جواب دیا، ’’بالکل، مجھے کام کرنے کی اجازت ہے اور میں اپنا کام جاری رکھوں گی۔‘‘

درایں اثنا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ستودہ کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ حکومتی اقدام ایران میں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے اس پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صدر روحانی کے دور میں وہاں انسانی حقوق کے حوالے سے مزید بہتری کی امید کرتے ہیں۔ یورپی پارلیمان کے اسپیکر مارٹن شُلز نے بھی اس خبر کو ’اہم اور مثبت اشارہ‘ قرار دیا ہے۔