.

نائجیرین لڑکی پہلی مس مسلم ورلڈ بن گئی

خواتین نے مقابلہ حسن قراءت اور عالمی مسائل پر بحث کرائی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم سب کو عالمی عالمی مقابلہ حسن یا "مس ورلڈ" جس میں خواتین اپنی خوبصورتی کے بل پر مقابلہ حصہ لیتی ہیں کے بارے میں تو معلوم ہے مگر انڈونیشیا کے دارالحکومت میں مسلم دنیا کی خواتین کے درمیان ایک منفرد نوعیت کا مقابلہ ہو۔

یہ مقابلہ حسن صورت کے بجائے حسن سیرت کی بنیاد پر تھا۔ تاکہ مسلم خواتین میں اسلامی تصورات، خصائل اور عادات کو پروان چڑھایا جا سکے۔ اس منفرد مقابلہ حسن میں اسلام کی حدود میں رہتے ہوئے جدید دنیا کے مسائل سے نمٹنے کے رجحان کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی .

اس مقابلے کی مسلم خواتین میں بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مداحوں میں اضافے کے بعد منتظمین نے اس مرتبہ انڈونیشیا کے ساتھ ساتھ سے ملائشیا، ایران، بنگلادیش، برونائی اور نائیجیریا کی مسلم لڑکیوں کو بھی حصہ لینے کی اجازت دی۔ مقابلے میں حصہ لینے والی خواتین کے لیے بے پردہ ہو نے کے بجائَے ساتر لباس کے ساتھ سکارف کے ذریعے اپنا سر ڈھانپنا بھی لازم تھا۔

یاد رہے کہ اس مقابلے کا آغاز 2011ء میں ایک اور نام سے ہوا تھا اور یہ صرف انڈونیشین عوام تک محدود تھا، مگر جب سے میڈیا نے اسکا موازنہ عالمی مقابلہ حسن سے کرنا شروع کیا ہے تب سے یہ عالمی شہریت یافتہ مقابلے کے "مسلم متبادل" کے طور پر سامنے آیا ہے۔

فائنل تک پہنچنے والی تمام 20 لڑکیوں نے نفیس کڑھائی کئے گئے کپڑے اور پرکشش "سٹیلیٹوز" پہن کر کے مسلمہ ورلڈ کے فائنل مقابلے کو چار چاند لگا دیے۔

مگر اچھی بات یہ تھی کہ تمام 6 ممالک سے آئی خواتین سرسے پائوں تک باپردہ تھیں اور برطانوی سے شروع ہونے والے مقابلہ حسن کے پیشِ نظر اس میں جیتنے کیلئے صرف جسمانی حسن ہی نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ قرآنی آیات کی کتنی اچھی تلاوت کرتی ہیں اور جدید دنیا میں اسلام کے متعلق کیا رائے رکھتی ہیں۔

کئی مذہبی سکالروں اور باعمل مسلمانوں کے سامنے ہونے والے مقابلے کے بعد ججوں پر مشتمل ایک پینل نے نائیجیریا سے تعلق رکھنے والی "اوبابئی عائشہ اجیبولا" کو فاتح قرار دیا۔

مسلمہ ورلڈ کے فائنل میں حصہ لینے کیلئے 500 سے زائد لڑکیوں نے آن لائن مقابلوں میں حصہ لیا جن سے پوچھا گیا کہ انہوں نے سکارف لینا کب اور کیسے شروع کیا اور پھر انکی کہانیوں کا آپس میں موازنہ کیا گیا۔.

یاد رہے کہ بالی کے ریزارٹ جزیرے پر ہونے والے مس ورلڈ مقابلہ حسن جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا کے پیشِ نظر جکارتہ کے ایک شاپنگ مال میں ہونے والے اس مقابلے کو جیتنے کے بعد اجیبولا بہت خوش تھیں۔

اپنا نام پکارے جانے پر 21 سالہ دوشیزہ اپنے گھٹنوں پر گر پڑیں اور اللہ کا شکر ادا کیا اور قرآنی آیات پڑھتے ہوئے رونے لگیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کامیابی اور جیت پراللہ کا شکر ادا کرتی ہیں۔ انہیں مکہ اور انڈیا کے دورے کی سہولت کے علاوہ 2200 امریکی ڈالر بطور انعام ملا۔

فائنل سے پہلے انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انکے نزدیک یہ مقابلہ نہیں ہے بلکہ ہم سب دنیا کو یہ دکھانا چاہ رہے ہیں کہ اسلام کتنا خوبصورت ہے"۔

اس مقابلے کی بانی "اکا شانتی" جن کو تین سال قبل اپنا سکارف اتارنے سے انکار کرنے پر"نیوز اینکر" کی نوکری سے نکالا گیا تھا، اپنی اس کاوش کو "مس ورلڈ کو اسلام کا جواب" قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مقابلہ مس ورلڈ سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا بھر کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں مسلم خواتین فحاشی کی طرف جا رہی ہیں اور وہ باقی عوام کی رول ماڈل بنتی ہیں جو کہ تشویش کا باعث ہے اسی لیے اس سال ہم نے جان بوجھ کر مس ورلڈ کے فائنل سے پہلے کیا تاکہ ہم مسلم خواتین کو بتا سکیں کہ انکے لیے رول ماڈل بھی موجود ہیں۔

اس پروگرام کی میزبانی دیوی سندرا نے کی جوکہ انڈونیشین اداکارہ اور پاپ سٹار ہیں اور انہوں نے حال ہی میں ایک سکارف کے لیے اپنے تیکھے ڈریس پہننا چھوڑ چکی ہیں۔ مقابلے میں مسلم اور پاپ موسیکی کی پرفارمنس کی گئیں جن میں سے ایک سادگی پر تھی۔ یہ ایک ایسی خاصیت ہے جو جج جیتنے والی لڑکی میں ڈھونڈ رہی ہیں۔

جکارتہ میں منعقد ہونے والے مقابلے میں شوخ رنگوں کے انڈونیشیا کی اسلامی ڈیزائنر ڈریس کی نمائش کی گئی ہے اور دیکھا جائے تو یہ انتہا پسندوں کا مغربی مس ورلڈ کے خلاف احتجاج کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ یاد رہے کہ انڈونیشیا میں مس ورلڈ کا فائنل رکوانے کے لیے ہزاروں انڈونیشین مسلمان پر نکل آئے۔ انکے مطابق مقابلہ حسن کی مشہوری کے متنظمین عریانی اور فحاشی کو فروغ دیتے ہیں۔

مسلم عوام کے احتجاج کے پیشِ نظر حکومت کو سر جھکانا پڑا اور انہوں نے مس ورلڈ مقابلے کو ہندو اکثریتی جزیرے بالی پر منتقل کرنے کا حکم دے دیا جہاں 8 ستمبر کو اسکا آغاز ہوا۔ منتظمین نے 28 ستمبر کا فائنل اور مقابلے کے باقی مراحل جکارتہ کے پاس منعقد کرنے تھے مگر اب حالات ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔