.

یمن: حوثی قبائل ایران سے ناطہ توڑ دیں: امریکی سفیر کا مشورہ

"صنعاء حکومت معاشی بحران کے حل میں ناکام رہی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں متعین امریکی سفیر جیرالڈ فائراسٹائن نے ملک میں برسر اقتدار قومی حکومت کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کی معاشی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدرعبد ربہ منصورھادی کی قیادت میں دو سال سے قائم قومی حکومت معاشی بحران کے حل میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے علاحدگی پسند حوثیوں پر زور دیا کہ وہ ایران سے تعلق ختم کریں اور طاقت کے استعمال کا راستہ چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔

امریکی سفیر نے یمن میں مدت ملازمت کے اختتام سے ایک ماہ قبل دارلحکومت صنعاء میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یمن کی موجودہ صورت حال کے بارے میں مفصل اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کئی صوبائی اکائیوں پر مشتمل ایک ایسی وحدت کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں وفاق کی موجودگی کے باوجود صوبے زیادہ با اختیار ہوں گے۔ ان کا اشارہ جنوبی یمن کی جانب سے ملک کو دو صوبوں شمالی اور جنوبی میں ریفرینڈم کے ذریعے تقسیم کیے جانے کے اس فارمولے کی طرف تھا جو سنہ 1990 میں پیش کیا گیا تھا۔ شمالی یمن نے اس تقسیم کی مخالفت کی تھی اورایک ہی مرکزی حکومت کے قیام پر زور دیا تھا۔

امریکی سفیر نے پیشن گوئی کہ پیش آئند عرصے میں مذاکرات کے ذریعے ملک کئی صوبوں میں تقسیم ہوگا اور مرکزی حکومت کو تسلیم کیے جانے کے باوجود صوبوں کے پاس زیادہ اختیارات ہوں گے۔

موجودہ عبوری حکومت کی مدت بالخصوص صدرعبد ربہ منصورھادی کو مزید پانچ سال دینے سے متعلق سوال کے جواب میں مسٹر جیرالڈ اسٹائن کا کہنا تھا کہ عبوری سیٹ اپ کی مدت میں توسیع کی ضرورت نہیں ہے۔ اب ملک میں اگلے سال [2014ء] میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہو جانے چاہئیں کیونکہ انتخابات کے لیے اب فضا سازگار ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن میں جمہوری عمل آگے بڑھانے کے لیے امریکا سمیت عالمی برادری کو شامی عوام کی مدد کرنی چاہیے۔ اگرصدر ھادی تنہا صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے تو اسے جمہوری رویہ نہیں سمجھا جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ انتخابات "اوپن میرٹ" پر ہونے چاہئیں۔ زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو حصہ لینے اور عوام کو ان میں سے اپنی مرضی کا لیڈر منتخب کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

جنوبی یمن کے حوثی قبائل کو مخاطب کرتے ہوئے امریکی سفیرنے کہا کہ "میرا حوثیوں کو ہمدردانہ مشورہ ہے کہ وہ عسکریت پسندی کا راستہ ترک کریں، ہتھیاروں سے دست کشی اختیار کر لیں اور بیرونی مشوروں بالخصوص ایران سے راہ و رسم ختم کرکے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں"۔۔

خیال رہے کہ جیرالڈ فائراسٹائن سنہ 2010ء میں یمن میں تعینات کیے گئے تھے۔ صنعاء میں ان کی میں تعیناتی کی تین سالہ مدت اسی ماہ ختم ہونے جا رہی ہے۔ اپنے تین سالہ دورسفارت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ "میں نے یمن کی بہتری کے لیے جو کچھ کیا، مجھے اس پر فخر ہے۔ میں اپنے کام سے مطمئن ہوں"۔