.

امریکا، بھارت سول جوہری توانائی کے تجارتی معاہدے کا امکان

شینکر میمن کے انکشاف پر اپوزیشن کے اعتراضات، قومی مفاد نظر انداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت اور امریکا سول جوہری معاہدے کے تعاون کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جوہری توانائی کے بھارتی سلامتی کے مشیر نے یہ بات ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے کہ اس سلسلے میں عملی پیش رفت وزیر اعظم من موہن سنگھ کے اگلے ہفتے ہونے والے دورہ امریکا سے پہلے ہو گی یا بعد میں؟

ایک سوال پر بھارتی سلامتی کے قومی مشیر کا کہنا تھا '' نیوکلئیر قانون کے مطابق کسی حادثے کی صورت میں سپلائر کمپنی کو مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔'' انہوں نے کہا ''اس سول ذمہ داری کے قانون کے حوالے سے صرف امریکا ہی نہیں امریکا کے مقامی سپلائر بھی رابطے میں ہیں، جن سے پوچھا جا رہا کہ اس قانون پر عمل کی صورت کیا ہو گی۔''

شینکر میمن کا کہنا تھا کہ '' یہ امریکا اور اس کی کمپنیوں کی بھی ضرورت ہے کہ انہیں بزنس چاہیے، ہم اس سلسلے میں تمام تر امور کو دیکھ رہے ہیں۔ ''

دوسری جانب بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ امریکی کمپنیوں سے معاہدے کے لیے بھارتی مفاد میں ایک اہم اور کلیدی دفعہ کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے، کہ اس صورت میں بھارتی حکومت کو یہ معاہدہ کرنے کا کریڈٹ نہیں مل سکے گا۔

تجارتی استعمال سے متعلق معاہدے کا بھی جلد امکان ہے۔ امریکی سپلائر کمپنیوں نے پلانٹ کو کسی قسم کے نقصان یا حادثے کی صورت میں قانونی معالات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ یہ بات بھارت کے قومی سلامتی کے امور کے مشیر شیوشینکر میمن نے جمعہ کے روز بتائی ہے۔