.

ترکی: پیانو بجانے کے ماہر کو توہین اسلام پر10 ماہ معطل قید کی سزا

عدالت کا منافرت پھیلانے پر فن کار کو دو سال تک نگرانی میں رکھنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول کی ایک عدالت نے پیانو بجانے کے عالمی شہرت یافتہ ماہر فاضل سئے کو سوشل میڈیا پر اسلام اور اسلامی اقدار کی توہین کے الزام میں قصوروار قرار دے کر دس ماہ معطل قید کی سزا سنائی ہے۔

فاضل سئے کے وکیل نے بتایا ہے کہ عدالت نے جمعہ کو اپنے فیصلے میں ان کے موکل کو دو سال کے عرصہ کے لیے نگرانی میں رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس مشہور پیانو نواز کو 15 اپریل کو ترکی کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر اسلامی اقدار کا مذاق اڑانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں پہلی مرتبہ دس ماہم معطل قید کی سزاسنائی تھی۔

تاہم بعد میں استنبول کی اعلیٰ عدالت نے عدالتی کارروائی میں سقم ہونے کی بنا پر یہ سزا کالعدم قرار دے دی تھی اور اس فن کار کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔ اب دوبارہ سماعت کے مطابق ماتحت عدالت نے ان کی سزا برقرار رکھی ہے۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس سزا کے خلاف ایک مرتبہ پھر اپیل دائر کریں گے۔

تینتالیس سالہ موسیقار نے اپنے خلاف عدالت کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور فخریہ انداز میں ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ''وہ ایک آزاد شخص کے طور پر اپنا کام جاری رکھیں گے''۔ انھوں نے ٹویٹر پر ماضی میں پوسٹ کی گئی تحریروں میں اسلام اور مسلمانوں کو مضحکہ اڑایا تھا اور ایک میں لکھا تھا کہ ''کم تر زندگی گزارنے والے، چور، بہروپیے سب اللہ کو ماننے والے ہیں''۔

ایک اور ٹویٹ میں اس آزاد خیال پیانو نواز نے لکھا تھا: '' نماز کے لیے دی جانے والی اذان اتنی مختصر کیوں ہے؟ اور موذن نماز فجر کی اذان صرف بائیس سیکنڈ میں ختم کردیتا ہے اس کو اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے؟ ''پراسیکیوٹرز نے ایسی ہی تحریروں کی بنا پر ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا اور عدالت میں انھیں اسلام اور اسلامی شعار کی توہین کا مرتکب ثابت کیا ہے۔

فاضل سئے نے ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی اسلامی جڑیں رکھنے والی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) پر الزام عاید کیا ہے کہ ان کے خلاف اس کیس میں اس کا ہاتھ کار فرما ہے جبکہ ترکی کے سیکولرسٹ اور آزاد خیال اپنے اس مزعومہ خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اے کے پارٹی کی حکومت آزادیٔ اظہار پر قدغنیں لگارہی ہے۔