.

کرداسہ: تین سابق مصری صدور سے وابستہ تلخ و شیریں یادوں کا مرکز

انور سادات کی پناہ گاہ اور حسنی مبارک کی سیاحتی جادو نگری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکے صدر مقام قاہرہ سے چند کلومیٹر کی مسافت پر الجیزہ گونرری کا قصبہ "کرداسہ" بلحاظ رقبہ تو ایک گاؤں ہے مگر تاریخی واقعات کے لحاظ سے ایک مصروف شہر سمجھا جاتا ہے۔

"کرداسہ" کے اوراق ماضی پلٹیں تو کبھی یہ سیر و سیاحت اور امن و راحت کی جادو نگری لگتا ہے اور کبھی غیر ریاستی عناصرکی آماج گاہ اورغیرقانونی اسلحے کا گڑھ دکھائی دیتا ہے۔ کرداسہ سے سابق صدر جمال عبدالناصر، انور سادات اور حسنی مبارک کی کئی تلخ وشیریں یادیں وابستہ ہیں، لیکن یہ ایک مرتبہ پھر قومی اور عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے شہر کی تاریخی اہمیت کے حوالے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ تازہ واقعہ اٹھارہ ستمبرکو پیش آیا جب شہر میں مسلح افراد کے حملے میں گیارہ سیکیورٹی اہلکار قتل ہوئے اور اس کے ردعمل ہونے والے کریک ڈاؤن میں تیس سے زائد افراد کی ہلاکت نے قصبے کوایک مرتبہ پھر خون میں نہلا دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سیکیورٹی فورسز نے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ پولیس کے بہ قول بلوائیوں نے حملہ کرکے ایک درجن سیکیورٹی اہلکار قتل کردیے۔

کرداسہ شاہ فاروق کے دور میں انورسادات کی پناہ گاہ، جمال عبدالناصر کے عہد میں اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاؤن کا مرکز اور معزول صدرحسنی مبارک کے دور میں سیاحتی توجہ کے باعث شہرت دوام حاصل کرچکا ہے۔

سنہ 1942ء میں شاہ فاروق کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر مالیات امین عثمان کے قتل میں [برطانوی] انگریز فوج نے انورسادات کو ان کے قتل کا ذمہ دار قراردیا۔ انور سادات شاہ فاروق کی فوج میں شامل تھے۔ یہ خبرسنتے ہی وہ اس قصبے میں روپوش ہوگئے۔ بعد ازاں یہی قصبہ ان کا سسرالی شہر قرار پایا۔ مشکل وقت میں انہیں "نظمی راشد المکاوی" نامی مقامی شخص نے اپنے گھرمیں چھپا لیا۔

بعد ازاں انہوں نے اسی [مکاوی] خاندان کی اقبال ماضی سے پہلی شادی کی۔ سابق صدر جمال عبدالناصر کے حکم پر پولیس نے اسی قصبے میں سنہ1965ء میں اخوان المسلمون کے ایک مطلوب لیڈرکے گھر پرچھاپہ مارا۔ پولیس نے اخوانی رہ نما کو حکام کے حوالے کرنے پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس کی اہلیہ کو یرغمال بنایا۔ یہ سلسلہ کئی ہفتے تک چلتا رہا اور قصبے کے باسی وہاں پر ہونے والی کارروائی سے سخت پریشان رہے۔ یوں یہ قصبہ جمال عبدالناصر کے دور میں اس تلخ تجربے سے گذرا۔

جمال عبدالناصر اور انور سادات سے وابستہ تلخ واقعات کے برعکس حسنی مبارک کی اس قصبے سے خوش کن یادیں وابستہ ہیں۔ حسنی مبارک نے شہر کی مقامی صنعت خصوصا کپڑے پر کشیدہ کاری کو ترقی دی۔ یہاں تک کہ کشیدہ کاری کے ذریعے تیار کیا جانے والا "کرداسہ کرتہ" پورے ملک میں مشہور ہو گیا اور لوگ دور دور سے یہاں سیاحت اور شاپنگ کے لیےآنے لگے۔

حسنی مبارک کے سیاحتی شہر کی رونق اب ایک مرتبہ پھر گہنا گئی ہے۔ اب یہ شہر شدت پسندوں کی سرگرمیوں کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ شہر معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں، سیکیورٹی حکام کو مطلوب عناصر اورغیر قانونی اسلحہ کے ذخائر کا مرکز بن گیا ہے۔ کرداسہ شہرکا قصبہ 'ابور رواش' غیرقانونی اسلحے کا گڑھ سمجھا جا رہا ہے۔

سابق صدر انور سادات کے مبینہ قاتل طارق الزمر اور عبود الزمر بھی اسی شہر کے 'ناھیا' قصبے کے رہائشی ہیں جو اس وقت روپوش ہیں۔ اس وقت سیکیورٹی فورسز تخریب کارعناصر کے خلاف ایک نیا آپریشن کرنے کی تیاری کررہی ہے جبکہ کرداسہ کے در و بام تازہ خون ریزی سے پہلے ہی سوگوار ہیں۔ کیا شہر میں کسی نئے تلخ واقعےکی تاریخ رقم کی جا رہی ہے؟