ایف بی آئی ڈائریکٹر نے نئی نگرانی پالیسی کی حمایت کر دی

دہشت گرد آن لائن پراپیگنڈہ کو بروئے کار لا رہے ہیں: جیمز کامے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے سب سے بڑے تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" کے نئے ڈائریکٹر نے صدر باراک اوباما کی طرف سے شروع کیے گئے جاسوسی اور نگرانی کے نئے پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''نگرانی کا نیا نظام ایک قانونی طریقہ ہے''۔ نئے ڈائریکٹر نے اس سے پہلے صدر جارج بش کے دور میں شروع کی گئی نگرانی کی سر گرمیوں کی مخالفت کی تھی۔

ایف بی آئی کی سربراہی سنبھالنے کے دو ہفتے بعد جیمز کامے نے ایک عالمی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ القاعدہ کی طرف سے موجود خطرات کے پیش نظر نگرانی کی نئی پالیسی ضروری تھی۔ آن لائن پراپیگنڈے کو دہشت گرد استعمال کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے سابق پراسیکیوٹرز اور ری پبلکن نے "این ایس اے" کی نگرانی کی پالیسی پر سخت تنقید کی تھی اور اس پر بنیادی انسانی حقوق کے کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔ خصوصا سابق انٹیلی جنس آفیسر سنوڈن کی جانب سے ڈرامائی انکشافات سامنے آنے پر اس موضوع پر ایک بحث کا ماحول رہا۔

سابق پراسیکیوٹر کا کہنا تھا ''یہ ایک چیلنج ہے کہ امریکا کی عوامی زندگی میں ایسی گنجائش پیدا کی جائے کہ نگرانی سے متعلق چیزیں بروئے کار آ سکیں۔'' انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پر عوامی سطح پر بحث کی جانی چاہیے کہ خارجی نگرانی اور عدالتوں کا کردار کیا ہو گا، اور جو بھی حفاظتی ڈھال اس کے گرد موجود ہے، یہ کس طرح قانونی ہے۔ نیز امریکی دستور میں اس کی گنجائش کس قدر ہے۔''

بش دور میں "ایف بی آئی" کے نئے ڈائریکٹر کا وائٹ ہاوس کے ساتھ اس بات پر ٹکراو رہا، تاہم اب جیمز کومے کا کہنا ہے ''مجھے اس قانون سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔''

''یہ حکومت کے لیے ضروری ہے، خصوصا جب حکومت کو معلومات جمع کرنے کی ضرورت ہو اور حکومت بنیادی حقوق میں توازن کی خاطر ایک قانونی طریقہ اختیار کرتی ہے ۔'' اس لیے اس پر عوامی بحث صحت مندانہ سر گرمی ہو گی۔'' جیمز کامے کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے معلومات جمع کرنا نجی حقوق کے منافی نہیں ہے۔

جیمز کامے نے حالیہ دنوں میں "این ایس اے" کی طرف سے اپنی دستاویزات سامنے لانے کی تعریف کی اور کہا اس سے لوگوں کو علم ہو سکا کہ حقائق کیا ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ جیمز کلیپر سے اتفاق کیا کہ اس طرح دہشت گرد دوسرے طریقے اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا '' یہ واقعی ایک بڑا اور اہم معاملہ ہے۔ ''

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے کہا ''اس موضوع پر ایک عوامی بحث کی ضرورت ہے۔'' پاکستان کی مثال دیتے ہوئے جیمز کامے نے کہا ''پاکستان میں القاعدہ کمزور ہو چکی ہے، لیکن اس سے منسلک گروپ دنیا میں جڑ پکڑ رہے ہیں اور آن لائن پراپیگنڈے کو دہشت گرد ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں