کینیا کے دارلحکومت میں اہم خریداری مرکز پر حملہ، 59 ہلاک

نیروبی کے شاپنگ مال پر حملہ، الشباب نے ذمہ دار قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کینیا کے صدر اُوہورو کینیاٹا نے ملکی ٹیلی وژن پر بوجھل لہجے میں دارلحکومت کے ایک شاپنگ مال پر دہشت گردوں کے حملے میں 59 ہلاکتوں اور 70 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مرنے ہونے والوں میں ان کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔

صدر کینیاٹا کا یہ بھی کہنا تھا دہشت گردوں پر قابو پالیا گیا ہے۔ کینیاٹا نے اپنے بیان میں دہشت گردوں کو ہر ممکن شکست دینے کے عزم کو بھی دہرایا۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ اِن حملہ آوروں کو ڈھونڈ کر انہیں سخت سزا دی جائے گی۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی حملے کے بعد بھی کافی دیر تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔
نیروبی کے شاپنگ مال پر حملے میں ہلاک ہونے والوں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں کی حتمی تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق کم از کم دو ہلاک ہونے والوں کا تعلق فرانس سے ہے۔ دو ہلاک ہونے والوں کا تعلق کینیڈا سے بتایا گیا ہے۔ اسی طرح امریکی حکومت نے بھی امریکی باشندوں کے زخمی ہونے کا بتایا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق اس کے بھی شہری اس حملے میں متاثر ہوئے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے حملے کے حوالے سے کہا کہ ایسے حملوں سے دہشت گردی کے خلاف ان کی کمٹ منٹ کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

پولیس ذرائع نے نیوز ایجنسی رائیٹرز کو بتایا کہ ابتدائی حملے کے بعد بھی کافی دیر تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ ایک امدادی رضا کار ووپُل شا کا کہنا ہے کہ ایک دوکان کے اندر سے تین نعشیں دستیاب ہوئی ہیں اور فائرنگ کے دوران سارا علاقہ ویران ہو گیا تھا۔

مبصرین کے خیال میں اس حملے سے عسکریت پسند بھرپور بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کی جو خواہش رکھتے تھے وہ کسی حد تک ضرور پوری ہو گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حملے کے علاقے میں غیر ملکی بہت شوق سے خریداری کرنے کے لیے جاتے ہیں۔

درایں اثنا مشرقی افریقی ملک کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ایک شاپنگ مال پر کیے گئے خونریز حملے کی ذمہ داری صومالیہ کے مسلمان انتہا پسند گروپ الشباب نے قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

شاپنگ مال پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے اعلان میں عسکریت پسند تنظیم الشباب نے کینیا حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صومالیہ میں تعینات اپنی فوجوں کو واپس طلب کر لے بصورت دیگر مزید ایسے حملوں کے لبے تیار رہے۔ کچھ عرصہ قبل شورش زدہ افریقی ملک صومالیہ کے مسلمان عسکریت پسندوں نے کینیا کی حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اُس نے اپنی فوج واپس نہ بلائی تو وہ اس شاپنگ مال پر حملے کر سکتے ہیں۔

القاعدہ سے نسبت رکھنے والے صومالی مسلمانوں کے عسکریت پسند گروپ الشباب کو ان دنوں کینیا اور دوسرے افریقی ملکوں کے امن دستوں کی چڑھائی کا سامنا ہے۔ اس نے نیروبی حکومت کو حملوں کی دھمکی پہلے سے دے رکھی تھی۔

اس گروپ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ کینیا کی حکومت شاپنگ مال میں ان کے عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے لیکن مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ ایک اور ٹویٹر پر جاری ہونے والے پیغام میں کہا کہ کینیا کے دستے ان کی سرزمین صومالیہ پر جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب میدان جنگ تبدیل کر کے کینیا کو بنا دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں