.

ایک دن میں 400 شامی پناہ گزینوں کی اٹلی آمد

بائیس سالہ لڑکی بحری سفر کے دوران انتقال کر گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اطالوی کوسٹ گارڈ کے حکام نے اطلاع دی ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں کم سے کم چارسو شامی باشندے ملک چھوڑکر بحری راستے سے اٹلی کے جزیرہ صقلیہ میں پہنچے ہیں۔ حکام کے مطابق اٹلی پہنچنے والوں کے ساتھ ایک بائیس سالہ لڑکی ذیابیطس کی مریضہ تھی، جو دوائی نہ ملنے کے باعث راستے میں انتقال کرگئی۔

کوسٹ گارڈ حکام نے بتایا کہ جزیرہ صقلیہ کی سرقوسہ بندرگاہ میں ایک کشی پہنچی جس پر299 شامی سوار تھے۔ ھجرت کرکے آنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس کے چند گھنٹوں کے بعد ایک دوسری کشتی اسی بندرگاہ میں پہنچی جس میں ایک سوچوبیس شامی پناہ گزین سوار تھے جن کے پاس ایک نوجوان لڑکی کی میت بھی تھی۔

اطالوی حکام فی الحال لڑکی کی موت کی وجہ معلوم نہیں کرسکے ہیں تاہم کشتی میں سوار دیگر مسافروں کا کہنا تھا کہ لڑکی زیابیظس کی مریضہ تھی اور راستےمیں دوائی اورمناسب خوراک نہ ملنے کے باعث وہ انتقال کرگئی۔ ایک شامی پناہ گزین نے بتایا کہ انہوں نے مصرکی ایک بندرگاہ سے ایک ہفتہ قبل سمندری سفر شروع کیا تھا۔

واضح رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث لاکھوں افراد دوسرے ملکوں میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہوچکےہیں۔ اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق اٹلی پہنچنے والی شامی پناہ گزینوں کی تعداد 3300 سے، جن میں حالیہ چار سو شامل نہیں ہیں۔