.

ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت میں مغربی تعصب حائل ہے: وزیر

صرف 44 فی صد ترک ملک کی یورپی تنظیم میں شمولیت کے حامی رہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی یورپی یونین کے موجودہ رکن ممالک کے متعصبانہ رویے کی وجہ سے کبھی بھی اس تنظیم میں شمولیت اختیار نہیں کرسکے گا.

اس بات کا برملا اعتراف ترکی کے یورپی یونین سے متعلق امور کے وزیر ایجمین بیگس نے لندن ٹیلی گراف میں ہفتے کے روز شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کیا ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ترکی کی گذشتہ کئی سال سے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے جاری کوششیں ایک مرتبہ پھر ناکام رہیں گی۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ترکی اب رکنیت کے بجائے یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک ناروے وغیرہ کی منڈیوں تک رسائی کے لیے کوششیں کرے گا۔ انھوں نے دوٹوک الفاظ میں لکھا ہے کہ ان کے ملک کو یورپی یونین کے موجودہ رکن ممالک کی جانب سے تنظیم کی رکنیت کے علاوہ اولمپکس کی میزبانی کے معاملے پر بھی تعصب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم انھوں نے کسی ملک کانام نہیں لیا۔

بیگس نے لکھا کہ ''ان ممالک کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وہ مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں''۔ کچھ عرصہ قبل ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں اور وہ یورپی یونین کو عیسائی تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

واضح رہے کہ فرانس اور جرمنی ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں، انھیں یہ تشویش لاحق ہے کہ سات کروڑ ساٹھ لاکھ آبادی کا یہ ملک ثقافتی تفریق کی بنا پر خود کو مغربی تہذیب کی حامل تنظیم میں نہیں سمو سکے گا۔ انھیں ترکی کے آبادی کے لحاظ سے دوسرے یورپی ممالک سے بڑا ہونے پر بھی اعتراض ہے۔

جرمن وزیرخزانہ وولف گینگ شیوبل نے جولائی میں یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کی شدید مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ''ترکی یورپ کا حصہ نہیں ہے''۔ واضح رہے کہ یورپی یونین نے ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے حالیہ مہینوں کے دوران حکومت مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد تنظیم کی رکنیت کے لیے مذاکرات معطل کردیے تھے۔

ترکی کو سنہ 1960ء کے عشرے میں یورپی یونین کا ایسوسی ایٹ ممبر بنایا گیا تھا۔اس کو سنہ 2005ء میں یورپی یونین کی رکنیت دینے کے لیے نئے سرے سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا لیکن ترکی کے جزیرے قبرص کے ساتھ تنازعے پر یہ بات چیت نتیجہ خیز نہیں رہی تھی۔

یورپی ممالک کے مخالفانہ رویے کی وجہ سے اب ترک عوام بھی اس تنظیم میں اپنے ملک کی شمولیت کے کوئی زیادہ حامی نہیں رہے ہیں۔ اس کا اندازہ رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے سے کیا جاسکتا ہے۔ جرمن مارشل فنڈ کی اسی ہفتے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت صرف 44 فی صد ترک اپنے ملک کی یورپی یونین میں شمولیت کے حامی ہیں جبکہ سنہ 2004ء میں یہ تعداد 73 فی صد تھی۔