.

روس جنگ زدہ شام میں اپنے فوجی مبصرین بھیجنے کو تیار

وزیرخارجہ لاروف کی مغربی ممالک پر شام مخالف قرارداد پیش کرنے پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے تحفظ اور انھیں ٹھکانے لگانے کے کام کی نگرانی کے لیے اپنے فوجی مبصرین بھیجنے کو تیار ہے۔

یہ بات روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے اتوار کو سرکارِی ٹی وی چینل ون کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ البتہ انھوں نے واضح کیا ہے کہ روس شام میں ایک مکمل فوجی دستہ بھیجنے کو تیار نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے ملک نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین جہاں کام کریں گے، وہاں بین الاقوامی مبصرین کی تعیناتی کی بھی تجویز پیش کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ان عالمی فورسز کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے ہم اپنے حصے کے فوجی اور پولیس اہلکار بھیجنے کو تیار ہیں لیکن میرے نزدیک وہاں فوجی مبصرین زیادہ مناسب رہیں گے''۔

سرگئی لاروف نے اس انٹرویو میں بعض مغربی ممالک کی جانب سے شام کے خلاف کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت پیش کردہ مجوزہ قرارداد کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے مغربی ممالک کی بھونڈی کوشش قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ مغرب یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ماضی میں ان کی جانب سے عراق، افغانستان اور لیبیا میں فوجی مداخلتوں سے سنگین نوعیت کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''مغربی ممالک اپنی بالا دستی کو برقرار رکھنے کے لیے ثبوت کے خواہاں ہیں اور انھیں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مسئلے سے نمٹنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے''۔

برطانیہ ،فرانس اور امریکا شام کے خلاف سخت قرارداد کے حق میں ہیں لیکن روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے باب سات کے تحت قرارداد کی مخالفت کررہے ہیں۔ فرانسیسی قرارداد کے مسودے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر صدر بشارالاسد امریکا اور روس کے درمیان گذشتہ ہفتے جنیوا میں طے پائے سمجھوتے کے تحت اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ نہیں کرتے تو پھر ان کے خلاف اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت کارروائی کی جائے۔

فرانس نے مجوزہ قرارداد میں شام میں گذشتہ ماہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا معاملہ ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت میں بھیجنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ چین اور روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ماضی میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف مغربی ممالک کی پیش کردہ تین قراردادوں کو ویٹو کرچکے ہیں۔