.

نائیجیریا میں روزانہ ایک لاکھ بیرل تیل چوری کیے جانے کا انکشاف

لوٹ مارعالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافےکا موجب بنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قدرتی تیل کی دولت سے مالا مال افریقی عرب ملک نائیجیریا کے حکام نے آئل سیکٹر میں ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی کرپشن کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں روزانہ کم سے کم ایک لاکھ بیرل تیل چوری ہو رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق تیل چوری کرنے میں مختلف گرہ ملوث ہیں جو آئل ٹینکروں کو لوٹ کران کا تیل بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر نائیجیریا میں یومیہ بیس لاکھ بیرل تیل نکالا جا رہا ہے جس کا پانچ فی صد حصہ چوری کے ذریعے بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ تیل کی اتنی بڑی مقدار میں چوری عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

نائجیریا کے ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ "کاتھام ہاؤس" کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تخریب کارعناصر نہایت طاقتور ہیں جو نائیجیریا سے تیل چوری کرنے کے بعد اسے مغربی افریقہ، یورپ، ایشیا اور امریکا میں بھی فروخت کے لیے لے جاتے ہیں۔ افریقی ملک قریب پڑنے کے باعث بڑی مقدار میں چوری شدہ تیل ان ملکوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چار سال کے دوران افریقی ملکوں سے نائیجیریا کے تیل کی طلب کم ترین سطح پر آگئی ہے، جبکہ چوری کے نتیجےمیں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں رواں سال مزید اضافہ ہواہے۔

رپورٹ کے مطابق تیل چوری ہونے کی مقدار میں اضافے کے نتیجے میں نیجر کوتیل کی مد میں حاصل ہونے والی امدنی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ سرکاری رپورٹس کےمطابق رواں سال تیل سیکٹرمیں ہونے والی آمدنی میں اعشاریہ 80 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسرےمعنوں میں تیل چوری ہونے کے باعث نائیجیریا کو سالانہ تین کھرب آٹھ ارب ڈالر ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ تیل کی لوٹ مار سے نہ صرف مخصوص گروہ ہی مستفید نہٰیں ہو رہے ہیں بلکہ اس بہتی گنگا سے اعلیٰ حکومتی افسران، اہم سیاسی و سماجی شخصیات، تاجر حتی کہ عوام بھی اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ نیا نہیں بلکہ سنہ 70 کی دھائی سے شروع ہوا ہے لیکن حکومت اوراس پر کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔

چند ماہ قبل نائیجیریا کی خاتون وزیر مالیات نغوزی اوکونجو ایالا کا کہنا تھا کہ ان کے ملک سے یومیہ چار لاکھ بیرل تیل چوری ہو کربلیک مارکیٹ میں پہنچتا ہے۔